اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے۔۔

میں ایک جنگلی بھینسا ہوں ۔ میرے آباو اجداد افریقہ کے جنگلات میں ایک زمانے سے آباد ہیں۔ میرا جینا ان ہی میدانوں میں ہوا ہے اور مرنا  بھی  اس ہی جگہ ہو گا۔ ہمارے اس ریوڑ میں ہر طرح کی بھینس اور ہر طرح کا بھینسا موجود ہے، جوان بوڑھا بچہ ہر عمر کا۔ اگر طاقت کا موازنہ کسی اور جانور سے کریں تو میں گھاس کھانے والے جانوروں میں سب سے طاقتور ہوں۔  میرا وزن  اور میرے سینگ مجھے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ میرے نوکیلے سینگ ایک بہترین ہتھیار ہیں۔ جو عموما ہم ایک دوسرے پر ہی آزماتے ہیں۔ ہم بھینسوں میں بھی عجیب محبت ہوتی ہے۔ ہم سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھے ہم کو ایک بات سختی سے سمجھا گئے ہیں کے متحد رہنا! اگر بکھرےتو دشمن تمھیں تکہ بوٹی کر دیں گے۔ وہ دن اور آج کا دن ہم ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔
اس ریوڑ کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی گروہ بندیاں ہیں۔ بھینس اور بھینسے کی جوڑی کی صورت میں یا بھینس اور بچھڑے کی صورت میں، ہر جوڑا اپنے حال میں مست ہے۔ کچھ مست ہیں کچھ بدمست ہیں۔
ہمارے  اردگرد سر سبز گھاس ہے، جو ہمارے لیے خدا کا تحفہ ہے۔ خدا کی اس زمین پر ہم اکیلی مخلوق نہیں ، اس جنگل میں بھانت بھانت کے جانور ، چرند پرند اور حشرات موجود ہیں۔ ہم بھینسوں کے لئے باعث پریشانی جو جانور ہیں وہ ہیں شیر اور چیتا۔ گوشت خورجانوروں میں یہ سب سے چالاک اور پھرتیلے ہیں۔ ان سے بچنا آسان نہیں ہے۔ یہ شکار بھی کرتے ہیں تو اتنا تھکا دیتے ہیں ہم خود ہی اپنی گردن ان کے سامنے کر دیتے ہیں۔ جو شکار ہوتا ہے اس کو بھگا بھگا کر اپنے ریوڑ سے الگ کر دیتے ہیں۔ جو بھاگتے بھاگتے پیچھے رہ جاتا ہے وہی ان کا کھاجا بن جاتا ہے۔ یہ تواتحاد نا ہوا۔ ساتھ بھاگنا متحد ہونا نہیں ہے۔ ساتھ گھاس چرنے کو اتحاد نہیں کہتے۔ اللہ نے ہم کو اتنا طاقتور تو بنایا ہے کی اگر ہم اس ایک شیر کے سامنے مل کر کھڑے ہوجائیں تو ہم اس کو سبق سکھا سکتے  ہیں یا کم سے کم بھاگنے پر مجبور تو کر سکتے ہیں۔ کسی ایک بھینسے کا شکار کرنا تو آسان ہو سکتا ہے لیکن ایک وقت میں بہت سارے بھینسوں سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔
آج اس بات پر سب بھینسوں کو قائل بھی کر لیا ہے کہ اس بار شیر حملہ کرے گا تو کسی نے نہیں بھاگنا۔ سامنے کھڑے رہ کر مقابلہ کرنا ہے۔  دو تین دن سے کسی شیر نے حملہ نہیں کیا ہے ، امید ہے کہ آج یا کل کوئی نہ کوئی شیر یا چیتا ہمارے غول پر بری نظر ضرور ڈالے گا۔ تمام جنگی حربے تمام بھینسوں کو بتا دے گئے ہیں ۔ اس بار پتا چلے گا کے ہم کتنے ٹھیک ہیں اور کتنے غلط ۔
سو وہ دن  بھی آن پہنچا کہ ہم سب نے خطرے کی بو سونگھ لی ، سب کو پتا تھا کے شیر کہیں قریب میں ہی گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کسی بھی وقت شیر سامنے آسکتا ہے اور ہم کو بھاگنے کی بجائے طے کردہ حکمت عملی پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کے بہت سے نوجوان بھینسے جوش میں تھے اور کچھ کمزور دل ایک دوسرے کے پیچھے چھپ رہے تھے ۔ شائد ان کو اپنے اوپر یقین نہیں تھا ۔ اسہی اثنا میں بھگداڑ مچ گئی اور بہت سے بھینسوں نے اپنی جبلت سے مجبور ہو کر بھاگنا شروع کر دیا ۔ لیکن جلد ہی ان کو محسوس ہو گیا کہ بھاگنا موت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم سب ایک جگہ کھڑے تھے اور شیر ہم سے کچھ دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس سے پہلے کے شیر ہماری طرف پیش قدمی کرتا ہم سب نے اس کی جانب چلنا شروع کر دیا۔ شیر ایک لمحے کو سٹپٹایا اور اپنے آپ کو اتنے سارے بھینسوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر الٹے قدم واپس چلنے لگا۔ اتنی تعداد میں طاقتور بھینسوں کو ایک ساتھ اپنی جانب آتا دیکھ کر اس کے پاس اور کوئی چارا بھی نہیں تھا۔ ہم سب نے اس کو جاتا دیکھ کر اپنے قدم اور تیز کر دیے ۔ اب حالت یہ تھی کے شیر آگے تھا اور بھینسوں کی فوج اس کے پیچھے ۔ اپنی فتح پر مجھے جتنی خوشی آج تھی یقینا پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ آج مجھے متحد ہونے کا سہی مطلب پتا چلا۔ ہم سب خوشی سے سرپٹ بھاگ رہے تھے  کہ مجھے ٹھوکر لگی اور میں میدان میں گر گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو بستر سے نیچے گرا ہوا پایا۔ دوسرے ہی لمحے اس بات کا ادراک ہو گیا کے یہ سب ایک خواب تھا۔ بستر پر واپس آتے آتے مجھے قوم اور ہجوم کا فرق سمجھ آچکا تھا ۔ میں اس خواب کے تمام کرداروں کو اپنے ملک کے حالات پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور دوبارہ سونے سے پہلے میں شیر پر پریشانیوں ، مہنگائی ، شدت پسند ، ظلم، زیادتیوں اور خود غرض حکمرانوں  کا لیبل لگا چکا تھا اور بھینسوں کا وہ ہجوم جو ایک قوم میں تبدیل ہو گیا تھا ، پر پاکستانیوں کا نام لکھ چکا تھا۔  اس دعا کے ساتھ میں سکون  سے سو گیا کہ الله میرے اس خواب کوجلد حقیقت کر دے۔ آمین

دستور

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سےجب کوئی بچہ گرے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری سانپ چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے
خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر
ہمارے شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر

مشکلات کا سیلاب

کیا ہم واقعی بےحس ہو چکے ہیں؟ ٢٠٠٥ میں بھی تو ہم ہی تھے نہ ؟ اس وقت ہم کیسے ایک ہو گئے تھے ؟ اس وقت تو امدادی سامان کے ڈھیر لگ گئے تھے ۔ اتنا سامان ہو گیا تھا کے سبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔ آج کیا ہوا؟ اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ میرے ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی مسئلا درپیش ہے۔ بیرونی طاقتوں نے ہم کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اب ہم کو دائیں بائیں دیکھنے کی فرصت ہی نہیں رہی ۔ کچھ دن پہلے ایک ایسی ہی ویب سائٹ پر پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پڑھتے ہوئے مجھے جھرجھری آگئی۔ یہ ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔ ایک کے بعد ایک مسئلہ ، ہم پر ہی کچھ برا وقت ہے ۔ اس پر کسی نے اچھا کہا کہ

الله  ہم سے   ناراض ہے یہ قرآن نے  بتا  دیا
مرے وطن کی حالت نے بادلوں کو بھی رلا دیا
ہواؤں  کی  ناراضگی  کا تب  علم ہوا   ہم    کو
جب   کسی  پرواز  کو  اس نے زمیں پر گرا دیا
یوں   خون کو  بہتا دیکھ کر  دریا سے رہا  نہ گیا
اک آنسوؤں کا سیلاب گلیوں تک میں بہا دیا
یہ پاک     زمین     رو رو      کر یہ کہتی       ہے
ایسے گناہگار لوگوں کو یا رب کیوں مجھ پر بسا دیا

جس ملک کے حکمران اس کٹھن وقت میں اپنی ذاتی مصروفیات ترک نہ کر سکیں تو اس ملک کے عوام بھی یقینا ایک دوسرے کا دکھ درد نہیں بانٹ سکیں گے ۔ ایسے میں ان کو جوتے ہی پڑنے چاہے۔ جب پاکستان کے اپنی عوام کو ان پر یقین نہ ہو تو دوسرے ملک کے لوگ کس طرح ان کا ساتھ دیں گے۔ شائد جن سرکاری دفاتر میں ایک یا دو دن کی تنخواہ زبردستی کاٹی گئی ہے وہ ہی روپے سرکاری مد میں جمع ہوے ہوں گے ورنہ کس نے ان کو پیسے دیے ہوں گے؟ جن لوگوں نے واقعی مدد کرنی تھی وہ یا تو خود براہ راست مدد کر رہے ہیں یا پھر کسی ایسے ادارے کے ذریعے مدد کر رہے ہیں جس پر ان کو بھروسہ ہے ۔ الله تعالی بھی تو امتحان لیتا ہے ، کہاں دریا خشک تھے اب بھرے تو ایسے کے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ خدا کی قدرت! !
صحرا تو بوند کو بھی ترستا دکھائی دے
بادل  سمندروں پہ برستا   دکھائی دے
درخواست  صرف اتنی ہے کے ان سیلاب زدگان کی مدد ضرور کریں چاہے کسی ذریعے سے کریں ۔ ان کو ہماری ضرورت ہے

ماہ مبارک

ِِ

رمضان کریم مبارک

آپ سب کو میری جانب سے رمضان المبارک بہت بہت مبارک ہو

مرد

آج پھر ایک ایسی خبر میری نظر سے گزر گئی جس کو دیکھ کر میں کافی دیر سوچتا رہا کہ ہمارے ملک میں کب انصاف کا بول بالا ہوگا ؟ کب ہم میں تعلیم عام ہوگی اور جو تعلیم یافتہ ہیں ان پر کب تعلیم کا اثر ہوگا؟ خبر ایک لڑکی کی ہلاکت کی تھی جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ وہ لڑکی موت سے لڑتے لڑتے تھک گئی تھی۔ عموما ایسے واقعات کے پیچھے کوئی شادی کا مسئلہ ہوتا ہے یا پھرکوئی دیرینہ دشمنی۔ کسی عورت کے لئے شائد اس سے بڑی سزا نہ ہوگی کے اس کو باقی ماندہ زندگی بغیر چہرے کے گزارنی ہو۔ اس میں بھی الله کی مرضی تھی کہ وہ اس دنیا سے رخصت  ہو گئی مگر اس خبر میں بھی تیزاب پھینکنے والا آزاد گھوم رہا ہے۔
ہمارے ملک میں تیزاب سے متاثر ہونے والی خواتین کی کوئی صحیح تعداد تو میسر نہیں لیکن کچھ آزاد ذرائع کہتے ہیں کے ملک ہر سال تقریبا  ١٥٠ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ یہ خبر مجھے آج سے دس سال پہلے کے ایک واقعے کی یاد دلا گئی۔ یہ کہانی ایک لڑکی فاخرہ کی ہے۔ کراچی کے ایک علاقے نیپئر روڈ پر رہنے والی یہ لڑکی ایک ناچنے گانے والی لڑکی تھی- یہ فن اس کو اپنی ماں سے ملا تھا جو ہیروئن کا نشہ کرتی تھی ۔ جب تک فاخرہ ١٨ سال کی عمر کو پہنچی وہ ٣ سالہ نعمان کی ماں بن چکی تھی۔ ایک دن ایک پارٹی میں فاخرہ کی ملاقات ایک شخص سےہوتی ہے۔ یہ شخص جس کا نام  بلال تھا ، مالدار بھی تھا اور جوان بھی ۔ فاخرہ کے دل میں بھی اس کے لئے محبت جاگتی ہے اور اس طرح ان دونوں کی شادی ہوجاتی ہیں۔   فاخرہ شادی ہو کربلال کے خاندان کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ خاندان تھا کھر خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر کا خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر ستر کی دہائی میں واضح برتری سے انتخابات جیتے تھے اور پھر "شیر پنجاب” کہلائے تھے۔ خیر قصہ مختصر ، شادی کے کچھ عرصے بعد بلال اور فاخرہ کی اختلافات جنم لینے لگتے ہیں اور ایک دن بلال اور فاخرہ کی ہاتھا پائی ہوتی ہیں۔ بلال فاخرہ کے سر پر کچھ ڈالتا ہے جس کو فاخرہ یہ سمجھتی ہیں کے کچھ پلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ تیزاب تھا . فاخرہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کپڑے  اپنی کھال میں حل ہوتے نظر آتے ہیں ، آگ لگنے سے اس کا جسم اور چہرہ بری طرح مسخ ہو جاتا ہے ۔ تین ماہ ہسپتال میں گزرنے کے بعد فاخرہ واپس آتی ہے۔ اسی درمیان  بلال سے اس کی مصالحت ہو چکی ہوتی ہیں۔ بلال اس کو لے کر اپنے فارم ہا وس آجاتا ہے اور اپنے خاندان سے الگ رکھتا ہے۔  فاخرہ اب بھی باورچی خانہ سنبھالتی ہے۔   دونوں کے درمیان جھگڑے چلتے رہے اور پھر اس زندگی سے تنگ آکرآخرکار  فاخرہ بلال سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس وقت تک ڈاکٹروں نے فاخرہ کے جڑے ہوے ہونٹ الگ کر دیے تھے اور اب فاخرہ  بول بھی سکتی تھی ، چل پھر بھی لیتی تھی ۔
فاخرہ اپنے لئے اور اپنے بچے کےلئے جینا چاہتی تھی اور اس زندگی کو آگے گھسیٹنے کے لئے اس نے تہمینہ دررانی کو مدد کا پیغام بھیجا ۔ تہمینہ درانی "شیر پنجاب ” کی چوتھی  بیوی تھی – انہوں نے بلال کی پرورش میں بھی اچھا کردار ادا کیا تھا۔ بلال اب ہی ان کو "ممی” کہہ کر پکارتا تھا۔ تہمینہ دررانی کی لکھی ہوئی کتاب”مائی فیوڈل لارڈ”  بہت مقبول ہوئی ،جس کا دنیا کی ٣٦ زبانوں میں ترجمہ ہوا اور کافی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ اس کتاب میں تہمینہ نے اپنی اور کھر کی زندگی کے بہت حقائق بیان کیے ہیں۔
تہمینہ کی کوشش تھی کے وہ دوبارہ فاخرہ کے خاندان سے دور ہی رہے مگر فاخرہ کی حالت دیکھ کر وہ مدد پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔اب بلال کھر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا تہمینہ کا عزم تھا ، اس کے بعد فاخرہ کو اس کی شکل اور اعتماد واپس کرنا اس کا ارادہ تھا۔ فاخرہ کو بہتر صورت میں لانے میں بھی کم سے کم ٣ سال کا عرصہ درکار تھا جس میں اس کو ٣٠ آپریشنوں سے گزرنا تھا ۔ تہمینہ دررانی نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اٹلی میں فاخرہ کا علاج کروانے کا ارادہ کیا جس کو  میلان میں قائم ایک کمپنی سینٹ انجلییکا

کاسمیٹکس Sant’Angelica cosmetics  نے فنڈ کیا اور فاخرہ کے علاج کے سارے اخراجات برداشت کرنے کا ذمہ اٹھایا۔ اس کے بعد کا مرحلہ فاخرہ  کو اٹلی لے کر جانے کا تھا جس کے لیے اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہونا ضروری تھا ۔ ان حالات میں اس وقت کے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کی مدد سے فاخرہ کا پاسپورٹ جنرل پرویز مشرف کے دفتر سے حاصل کیا گیا ۔ کیونکہ کچھ حکومتی اداروں کا خیال تھا کہ فاخرہ کا پاکستان سے باہر جانا پاکستان کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔

آخری خبر آنے تک فاخرہ اٹلی میں ہی تھی اور اپنےعلاج میں مصروف تھی ۔ وہ وہاں اطالوی زبان بھی سیکھ رہی تھی تاکہ وہ وہاں رہ سکے۔ تہمینہ بتاتی ہیں کے فاخرہ جیسے ہی اس قابل ہوگی کے وطن لوٹ کر آسکے وہ آئےگی۔ میں نے اس کو اس قابل بنا دیا ہے کے وہ اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ سکتی ہے ۔  فاخرہ کا چہرہ عورتوں کے خلاف مردوں کے جرم کا آئینہ ہے ، یہ فاخرہ کے لیے شرم کی وجہ نہیں ہے کیونکے شرم کا مقام پاکستان میں موجود طاقتور مردوں کے لئے ہے جو کسی بھی وقت عورت کی زندگی کو داغدار کر سکتے ہیں .

انسانیت

شائد آج جون کا گرم ترین دن تھا۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آج دھوپ کی تمازت کچھ زیادہ ہی ہے۔ راستے میں دھوپ سے جھلستا ہوا دفتر پہنچا تو کام کا ایک امبار میرا منتظر تھا۔ جیسے تیسے کام کر کے شام کو دفتر سے نکلا تو اندازہ ہوا کے موسم یکسر بدل چکا ہے۔ آسمان پر بادل بھی ہیں اور ہوا میں بھی تھوڑی ٹھنڈک ہے ایسے میں سوچا چلو تھوڑا گھومتے ہوئے ہی گھر جاتا ہوں- ملا کی دوڑ مسجد تک اور میری جناح سپر تک، سو جا پہنچا- لیمن سوڈے کا آرڈر دیا اور صحن میں لگی کرسیوں میں سے ایک پر جا بیٹھا۔ لگ رہا تھا موسم کا مزہ لینے ساری دنیا ہی گھروں سے باہر آ گئی ہے ۔ میرے آس پاس بھی کافی لوگ تھے اور بلکل سامنے کھڑی گاڑیوں میں بھی کچھ لوگ بیٹھے نظر آرہے تھے۔ میرے قریب ہی دو بچے کارٹونوں کی کتابیں لئے آپس میں اٹکیلیاں کر رہے تھے، اور کیوں نہ کرتے موسم پر ان کا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا میرا یا کسی اور کا تھا۔ اکیلا ہونے کے ناتے اردگرد کے لوگوں کو دیکھنے کے علاوہ میرا کچھ اور کام بھی نہ تھا کہ جب تک سوڈا نہ آجاتا۔ میری توجہ بار بار انہی دو بچوں پر جا ٹہرتی ،  جو کارٹونوں کی کتابیں بیچنے کے لئے گھروں سے نکلے تھے۔ ان دونوں کی عمریں بھی ان ہی کتابوں کو پڑھنے کی ہوں گی۔ میں سوچ ہی رہا تھا کے یہ بچے میرے پاس کتابیں بیچنے کیوں نہیں آیے۔اتنے میں پاس ہی ایک چمکدار خوبصورت سفید گاڑی آکر رکی۔ سامنے والی نشست پر ایک صاحب سفید  کلف شدہ قمیض شلوار میں ملبوس براجمان تھے ، ساتھ میں یقینا ان کی بیوی ہوگی۔ ابھی دھیان ان کی گاڑی سے ہٹا نہیں تھا کے دونوں بچے میرے سامنے سے بھاگتے ہوے گاڑی کی جانب لپکے۔ مجھے میرے سوال کاجواب مل گیا تھا کہ یہ بچے میرے پاس کیوں نہیں آیے۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر تین  بچے بھی تھے۔ یہی ان کے ممکنہ خریدار ہو سکتے تھے ،  کتابیں بیچنے والے دونوں بچے گاڑی کے شیشے سے کتابیں گاڑی میں بیٹھے ہوے بچوں کو دیکھا رہے تھے۔ شاید کارٹون سب بچوں کی کمزوری ہوتے ہیں سو وہ بھی توجہ سے ان کی جانب دیکھ رہے تھے- گاڑی چلانے والے ابّو کو شاید کتابوں سے کوئی  شغف نہیں تھا اور نہ ہی مجھے لگ رہا تھا کے وہ اپنے بچوں کے لئے کتابیں خریدیں گے۔ اتنے میں میرا لیمن سوڈا آگیا اور میرا دھیان ان بچوں سے نکل کر سوڈے میں چلا گیا۔ سوڈا بنا بھی میری مرضی کا تھا تو اور بھی مزہ آرہا تھا۔ اسہی اثنا میں مجھے زور سے بولنے کی آوازیں آئیں، جو دیکھا تو کتابیں بیچنے والا لڑکا زمین پر گرا ہوا ہے اور وہ سفید چمکدار گاڑی والا شخص بچے کو ایک تھپڑ رسید کرنے کے بعد واپس گاڑی میں بیٹھ رہا تھے۔ ایک لمحے کو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا ، وہ بچہ روتا ہوا اٹھ رہا تھا کہ سامنے سے ہی ایک ویٹر اس گاڑی والے سے دریافت کرنے لگا کہ کیا ماجرا ہوا۔ میرا تجسس بڑھا تو میں بھی قریب ہو گیا۔ اک لمحےمیں مجھے وہ سفید کلف میں ملبوس شخص اتنا گندا لگنے لگا کےدل چاہا کہ اس کا گریبان پکڑ لوں۔ اس بچے پر ہاتھ صرف اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ اس نے صاف شیشے گندے کر دیے تھے ۔ وہ دونوں بچے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نجانے کس طرف نکل گئے اور میں سوچتا ہی رہ گیا کے ایسے بھی لوگ ہیں جو انسان کو انسان نہیں سمجھتے ۔ ایسے لوگ اپنی نئی نسل کو کیا تربیت دیں گے ؟ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کا مثبت  فعال پرزہ  بن سکتےہیں؟  یہ تو شکر ہے کے ایسے لوگ کم ہیں ورنہ ہمارا معاشرہ تو چاروں شانے چت زمین پر ڈھیر نظر آئے ۔ مجھے ایسے لوگوں سے ہمدردی بھی ہے کے یقینا ان کے ساتھ غریبوں کی بد دعائیں چلتی ہوں گی. بد نصیب !!!!!

پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں ناں رکھ لیا قاضی

ہتھ   وچ پھڑ کے تلوار توں   ناں رکھ  لیا  غازی

مکے   مدینے  گھوم  آیاں تے   ناں رکھ  لیا  حاجی

بلھے شاہ حاصل کی کیتا، جے توں یار نا رکھیا   راضی

وہی فارورڈڈ میل؟

کچھ دن پہلے کسی کی بلاگ پر فارورڈڈ میلز کی بارے میں پڑھ رہا تھا. ایسی میل یقیناً سب کو ہی آتی ہوں گی۔ ان میں کبھی مفت لیپ ٹاپ ملنے کا جھانسا ہوتا ہے تو کبھی موبائل فون ملنے کا، یا کبھی کسی میل کو فارورڈ کر نے سے کوئی کمپنی کسی مریض کو پیسے دیتی ہے۔ اس قسم کی جعلی میلز کو میں نے کبھی لفٹ نہیں کروائی، ہاں البتہ کچھ میلز ایک دم دل کو چھو جاتی ہیں۔ میں جس میل کا ذکر کرنے جا رہا ہوں بہت ممکن ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو مگر پھر بھی ۔۔۔۔۔ وہ میل کچھ اس طرح ہے۔
میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔۔
آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔
٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور
میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔
٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا
٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔
٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری ی حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔
٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا
٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا
۔
٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے گیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

آج کل کی اس دور میں مشکلات اتنی ہو گیں ہیں کے اکثر انسان کا ضبط جواب دے جاتا ہے . بہت کچھ غیر ضروری بول جاتا ہے جو اس کو یقننا نہیں کہنا چاھیے . متذکرہ میل کو پڑھنے کے بعد مجھے بھی احساس ہوا کے مجھ سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں . خیر قصّہ مختصر ……. یہ تحریر صرف اس وجہ سے لکھ دی کہ شائد کوئی اور بھی پڑھے اور بہتری کی جانب آئے-
جن کے پاس ماں ہے۔۔۔اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں ،اس سے پہلے کہ یہ نعمت ان سے بچھڑ جائے۔
اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا