Archive for the ‘شہریات’ Category

چور مچائے شور

کچھ دنوں سے اسلام آباد کی سڑکوں پر موجود پولیس چوکیوں پرعجیب اشتہارات نظر آ رہے ہیں یہ اشتہارات کسی خاص کمپنی کے بھی نہیں ہیں نا کسی مشتہر کا نام دیا گیا ہے۔ ایک عام سا اطلاعی نوٹس ہے کہ گاڑیوں میں نصب کیا جانے والا ٹریکر سسٹم فیل ہو چکا ہے اور اپنی گاڑیوں میں اسٹیرنگ راڈ والا لاک لگوائیں۔ یہ پڑھ کر یقیناً کافی لوگوں کو پریشانی ضرور ہوئی ہو گی، کہ ان کےزیرِ استعمال کار ٹریکنگ ڈیوائس اب کسی کام کی نہیں رہی۔ کار ٹریکر کمپنیاں پاکستان میں کافی عرصے سےکامیابی سے کام کر رہیں ہیں اور اب تو انشورنس کمپنیاں ان کے ساتھ مل کر کاروبار کر رہیں ہیں۔ اب یہ پینافلکس کے اشتہارات پولیس نے خود عوام کی بھلائی کے لئے لگائے ہیں یا کسی کمپنی کی دشمنی میں یہ تو اللہ جانتا ہے لیکن میرے خیال میں اس قسم کے اشتہار صرف سنسنی پھیلا سکتے ہیں۔کچھ کہہ بھی نہیں سکتے چھوٹے چوروں نے اپنا کام آسان کرنے کے لئے ان اشتہارات کا سہارا لیا ہو۔  بہت ہی پیشہ ور چور جو سگنل جیمر ڈیوائس ساتھ لے کر چوری کرے اس سے تو بچنا آسان نہیں لیکن اسٹیرنگ راڈ والے تالے آجکل بچے کھولتے ہیں۔ یہ تجربہ میں خود بھی کر چکا ہوں ، ٹائم تھوڑا زیادہ لگا لیکن تالا کھل گیا تھا۔ ذرا یہ ویڈیو ملاحظہ کریں ، دوسری ویڈیو یہاں دیکھیں۔ میرے خیال میں ان دونوں چیزوں کا ایک ساتھ استعمال زیادہ بہتر ہے۔

Advertisements

نیا سال مبارک

گئے برس کی یہی بات یادگار رہی
فضاء گناہوں کے لئے خوب سازگار رہی
خبر تھی گو اسے اب معجزے نہیں ہوتے
حیات پھربھی مگر محو انتظار رہی

کیا ھم مسلمان ہیں؟

ہمارے ملک میں ایک دم ہی سب چیزیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا گیس! کیا بجلی! کیا چینی اور کیا اخلاقیات۔ کل سی این جی کے لئے گاڑیوں کی لمبی لائن رات 2 بجے تک نظر آتی رہی۔ شاید اس کے بعد بھی گاڑیاں لائن میں لگتی رہی ہوں گی۔ کیا معلوم؟ پھر اسی پٹرول پمپ کے ساتھ مجھے کرسمس ٹری بھی روشن نظر آیا تو یادآیا کے مسیحی برادری کل اپنی عید منائے گی۔ کیا ھم خودغرض ہو گئے ہیں؟ یا ھمارا احساس مر گیا ہے؟ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہو سکتے تو کسی کی خوشی میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اگر سی این جی کی بندش ایک دن کے لئے نا کی جاتی تو کسی کو مسئلہ نا ہوتا، لیکن یہ ضرور ہوتا کے بہت سے بچے اپنی عید کو اپنے بڑوں کے ساتھ گھوم پھر کر اچھی طرح منا لیتے۔ مسلمانوں کی چاند رات پر ساری لوڈشیڈنگ موخر کر دی جا سکتی ہیں تو اس دن کیا مسئلہ تھا؟ دفتروں میں سب کو یہ فکر تو تھی کہ 27 دسمبر کی چھٹی ہے یا نہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ لانگ ویک اینڈ منا پائیں گے یا نہیں مگر کسی حکمران کو اس بات کا خیال نا آیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کے دن کو خاص بنانے کے لئے بہت محنت درکار نہیں ہے، صرف ایک دن سی این جی کھولنی ہے جو عام حالات میں بھی ہفتے کے 5 دن ملتی ہے۔ کاش ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کا بھی اسہی طرح خیال رکھیں جیسا ہم کو بحیثیت مسلمان رکھنا چاہیے!

گاوں

یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاوں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاوں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے
یہاں ہر ایک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاوں میں
جہاں سچے رشتے یاروں کے
جہاں گھونگٹ زیور ناروں کے
جہاں جھرنے کومل سر والے
جہاں ساز بجے بن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاوں میں

بھیک دو

پتا نہیں وہ کیا کہ رہے تھے مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کے وہ سب مل کر "بھیک دو” "بھیک دو” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کے دفتر کے باہر چالیس پچاس لوگ دو تین بینر اٹھائے نعرے لگا رہے تھے۔ شائد ان کے علاقے میں امداد نہیں پہنچی تھی جس پر وہ سب لوگ اسلام آباد میں واقع دفتر کے سامنے شور مچا رہے تھے. تھوڑا آگے جا کر مجھے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر نظر آیا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کے ہم پاکستانی کس راستے پر چل پڑے ہیں ۔ پوری عوام کو بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے۔ کہیں انکم سپورٹ ، کہیں وسیلہ روزگار ، کہیں بیت المال ، کہیں وطن کارڈ ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ہماری حکومتوں میں سیاسی و سماجی شعور کی کمی ہے یا صرف اپنوں کو نوازنے والی پالیسی ہے ۔ ہمارے ملک سے ابھی ایک سیلابی ریلا گزرا ہے ،بلاشبہ بے تحاشا تباہی اور املاک کو نقصان پہنچا لیکن خدارا!  اب عوام کو واپس کاموں پر لگاو، اکثر ابھی تک کمپس میں بیٹھے امداد کے متظر ہیں۔ کہتے ہیں سیلاب کے بعد زمینیں زرخیز ہوجاتی ہیں ؟ تو اس سال ہماری میگا فصلیں ہونی چاہیے ۔ حکومت نے ابھی تک اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ محنت کشوں کو محنت کش ہی رہنے دیں ، بھکاری نہ بنائیں۔ ان کو واپس آباد کرنے میں ان کو مدد کی جائے تو بہتر نہ ہوگا؟ اچھے بیج فراہم کے جایئں ، زرعی قرضے آسان شرائط پر مہیا کریں ، کچھ رہنمائی تو کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!! سب کے ہاتھوں میں کشکول دے دیا ہے ۔ زمینداروں کو کھیتی باڑی کے لئے لوگ نہیں مل رہے ، کون کام کرے ؟ سب کے گھروں میں امدادی اشیا کا ڈھیر لگا ہے۔ وہ ختم ہوگا تو کام شروع ہوگا۔

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا

پچھلے کچھ دن سے زیروپوائنٹ کے پل کے نیچے کا راستہ بند تھا- تکلیف تو بہت ہویئ لیکن مجبوری تھی کیا کرتے- آج رات آفس سے واپس جاتے وقت ریڈیو پر سنا کہ اسلام آباد سے پنڈی جانے والاراستہ ٹریفک کے لئیے کھول دیا گیا ہے تو ناجانے کیوں گاڑی کا اسٹیرنگ موڑ دیا۔ مجھے کیا دیکھنے کی کھوج تھی ،معلوم نہیں۔ مجھے نظر آرہا تھا کی زیرو پونٹ کے پل کے اس پاس گرد کی بادل پھیلے ہوے ہیں۔بڑے بڑےٹرک مٹی اٹھائے ادھر سے ادھر جا رہے ہیں، گرد کے بادلوں میں گھسا تو نظر آیا کے یہ گرد تو زیرو پوائنٹ کے پل کی ہی ہے ۔ اس پل کو میں بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ بارہا اس کے نیچے سے گزرا ہوں گا ،بیسیوں بار اوپر سے ۔ آج اس کو اپنی جگہ پر نہ پا کر مجھے دکھ ہوا۔ شائد یہ نیا اسلام آباد ہے ۔ آج سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہ پرانا اسلام آباد کہیں کھو سا گیا ہے ۔ وہ سکون، وہ امن، وہ سبزہ ،وہ لوگ ، کچھ بھی تو پرانا نہیں رہا ، سب بدل گیا ۔شائد ہم ترقی کر رہے ہیں۔ یا شائد ہم سمجھ رہے ہیں کے ہم ترقی کر رہے ہیں .