Archive for the ‘Uncategorized’ Category

چور مچائے شور

کچھ دنوں سے اسلام آباد کی سڑکوں پر موجود پولیس چوکیوں پرعجیب اشتہارات نظر آ رہے ہیں یہ اشتہارات کسی خاص کمپنی کے بھی نہیں ہیں نا کسی مشتہر کا نام دیا گیا ہے۔ ایک عام سا اطلاعی نوٹس ہے کہ گاڑیوں میں نصب کیا جانے والا ٹریکر سسٹم فیل ہو چکا ہے اور اپنی گاڑیوں میں اسٹیرنگ راڈ والا لاک لگوائیں۔ یہ پڑھ کر یقیناً کافی لوگوں کو پریشانی ضرور ہوئی ہو گی، کہ ان کےزیرِ استعمال کار ٹریکنگ ڈیوائس اب کسی کام کی نہیں رہی۔ کار ٹریکر کمپنیاں پاکستان میں کافی عرصے سےکامیابی سے کام کر رہیں ہیں اور اب تو انشورنس کمپنیاں ان کے ساتھ مل کر کاروبار کر رہیں ہیں۔ اب یہ پینافلکس کے اشتہارات پولیس نے خود عوام کی بھلائی کے لئے لگائے ہیں یا کسی کمپنی کی دشمنی میں یہ تو اللہ جانتا ہے لیکن میرے خیال میں اس قسم کے اشتہار صرف سنسنی پھیلا سکتے ہیں۔کچھ کہہ بھی نہیں سکتے چھوٹے چوروں نے اپنا کام آسان کرنے کے لئے ان اشتہارات کا سہارا لیا ہو۔  بہت ہی پیشہ ور چور جو سگنل جیمر ڈیوائس ساتھ لے کر چوری کرے اس سے تو بچنا آسان نہیں لیکن اسٹیرنگ راڈ والے تالے آجکل بچے کھولتے ہیں۔ یہ تجربہ میں خود بھی کر چکا ہوں ، ٹائم تھوڑا زیادہ لگا لیکن تالا کھل گیا تھا۔ ذرا یہ ویڈیو ملاحظہ کریں ، دوسری ویڈیو یہاں دیکھیں۔ میرے خیال میں ان دونوں چیزوں کا ایک ساتھ استعمال زیادہ بہتر ہے۔

نیا سال مبارک

گئے برس کی یہی بات یادگار رہی
فضاء گناہوں کے لئے خوب سازگار رہی
خبر تھی گو اسے اب معجزے نہیں ہوتے
حیات پھربھی مگر محو انتظار رہی

کیا ھم مسلمان ہیں؟

ہمارے ملک میں ایک دم ہی سب چیزیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا گیس! کیا بجلی! کیا چینی اور کیا اخلاقیات۔ کل سی این جی کے لئے گاڑیوں کی لمبی لائن رات 2 بجے تک نظر آتی رہی۔ شاید اس کے بعد بھی گاڑیاں لائن میں لگتی رہی ہوں گی۔ کیا معلوم؟ پھر اسی پٹرول پمپ کے ساتھ مجھے کرسمس ٹری بھی روشن نظر آیا تو یادآیا کے مسیحی برادری کل اپنی عید منائے گی۔ کیا ھم خودغرض ہو گئے ہیں؟ یا ھمارا احساس مر گیا ہے؟ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہو سکتے تو کسی کی خوشی میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اگر سی این جی کی بندش ایک دن کے لئے نا کی جاتی تو کسی کو مسئلہ نا ہوتا، لیکن یہ ضرور ہوتا کے بہت سے بچے اپنی عید کو اپنے بڑوں کے ساتھ گھوم پھر کر اچھی طرح منا لیتے۔ مسلمانوں کی چاند رات پر ساری لوڈشیڈنگ موخر کر دی جا سکتی ہیں تو اس دن کیا مسئلہ تھا؟ دفتروں میں سب کو یہ فکر تو تھی کہ 27 دسمبر کی چھٹی ہے یا نہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ لانگ ویک اینڈ منا پائیں گے یا نہیں مگر کسی حکمران کو اس بات کا خیال نا آیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کے دن کو خاص بنانے کے لئے بہت محنت درکار نہیں ہے، صرف ایک دن سی این جی کھولنی ہے جو عام حالات میں بھی ہفتے کے 5 دن ملتی ہے۔ کاش ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کا بھی اسہی طرح خیال رکھیں جیسا ہم کو بحیثیت مسلمان رکھنا چاہیے!

گاوں

یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاوں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاوں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے
یہاں ہر ایک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاوں میں
جہاں سچے رشتے یاروں کے
جہاں گھونگٹ زیور ناروں کے
جہاں جھرنے کومل سر والے
جہاں ساز بجے بن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاوں میں

بھیک دو

پتا نہیں وہ کیا کہ رہے تھے مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کے وہ سب مل کر "بھیک دو” "بھیک دو” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کے دفتر کے باہر چالیس پچاس لوگ دو تین بینر اٹھائے نعرے لگا رہے تھے۔ شائد ان کے علاقے میں امداد نہیں پہنچی تھی جس پر وہ سب لوگ اسلام آباد میں واقع دفتر کے سامنے شور مچا رہے تھے. تھوڑا آگے جا کر مجھے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر نظر آیا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کے ہم پاکستانی کس راستے پر چل پڑے ہیں ۔ پوری عوام کو بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے۔ کہیں انکم سپورٹ ، کہیں وسیلہ روزگار ، کہیں بیت المال ، کہیں وطن کارڈ ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ہماری حکومتوں میں سیاسی و سماجی شعور کی کمی ہے یا صرف اپنوں کو نوازنے والی پالیسی ہے ۔ ہمارے ملک سے ابھی ایک سیلابی ریلا گزرا ہے ،بلاشبہ بے تحاشا تباہی اور املاک کو نقصان پہنچا لیکن خدارا!  اب عوام کو واپس کاموں پر لگاو، اکثر ابھی تک کمپس میں بیٹھے امداد کے متظر ہیں۔ کہتے ہیں سیلاب کے بعد زمینیں زرخیز ہوجاتی ہیں ؟ تو اس سال ہماری میگا فصلیں ہونی چاہیے ۔ حکومت نے ابھی تک اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ محنت کشوں کو محنت کش ہی رہنے دیں ، بھکاری نہ بنائیں۔ ان کو واپس آباد کرنے میں ان کو مدد کی جائے تو بہتر نہ ہوگا؟ اچھے بیج فراہم کے جایئں ، زرعی قرضے آسان شرائط پر مہیا کریں ، کچھ رہنمائی تو کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!! سب کے ہاتھوں میں کشکول دے دیا ہے ۔ زمینداروں کو کھیتی باڑی کے لئے لوگ نہیں مل رہے ، کون کام کرے ؟ سب کے گھروں میں امدادی اشیا کا ڈھیر لگا ہے۔ وہ ختم ہوگا تو کام شروع ہوگا۔

مرد

آج پھر ایک ایسی خبر میری نظر سے گزر گئی جس کو دیکھ کر میں کافی دیر سوچتا رہا کہ ہمارے ملک میں کب انصاف کا بول بالا ہوگا ؟ کب ہم میں تعلیم عام ہوگی اور جو تعلیم یافتہ ہیں ان پر کب تعلیم کا اثر ہوگا؟ خبر ایک لڑکی کی ہلاکت کی تھی جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ وہ لڑکی موت سے لڑتے لڑتے تھک گئی تھی۔ عموما ایسے واقعات کے پیچھے کوئی شادی کا مسئلہ ہوتا ہے یا پھرکوئی دیرینہ دشمنی۔ کسی عورت کے لئے شائد اس سے بڑی سزا نہ ہوگی کے اس کو باقی ماندہ زندگی بغیر چہرے کے گزارنی ہو۔ اس میں بھی الله کی مرضی تھی کہ وہ اس دنیا سے رخصت  ہو گئی مگر اس خبر میں بھی تیزاب پھینکنے والا آزاد گھوم رہا ہے۔
ہمارے ملک میں تیزاب سے متاثر ہونے والی خواتین کی کوئی صحیح تعداد تو میسر نہیں لیکن کچھ آزاد ذرائع کہتے ہیں کے ملک ہر سال تقریبا  ١٥٠ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ یہ خبر مجھے آج سے دس سال پہلے کے ایک واقعے کی یاد دلا گئی۔ یہ کہانی ایک لڑکی فاخرہ کی ہے۔ کراچی کے ایک علاقے نیپئر روڈ پر رہنے والی یہ لڑکی ایک ناچنے گانے والی لڑکی تھی- یہ فن اس کو اپنی ماں سے ملا تھا جو ہیروئن کا نشہ کرتی تھی ۔ جب تک فاخرہ ١٨ سال کی عمر کو پہنچی وہ ٣ سالہ نعمان کی ماں بن چکی تھی۔ ایک دن ایک پارٹی میں فاخرہ کی ملاقات ایک شخص سےہوتی ہے۔ یہ شخص جس کا نام  بلال تھا ، مالدار بھی تھا اور جوان بھی ۔ فاخرہ کے دل میں بھی اس کے لئے محبت جاگتی ہے اور اس طرح ان دونوں کی شادی ہوجاتی ہیں۔   فاخرہ شادی ہو کربلال کے خاندان کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ خاندان تھا کھر خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر کا خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر ستر کی دہائی میں واضح برتری سے انتخابات جیتے تھے اور پھر "شیر پنجاب” کہلائے تھے۔ خیر قصہ مختصر ، شادی کے کچھ عرصے بعد بلال اور فاخرہ کی اختلافات جنم لینے لگتے ہیں اور ایک دن بلال اور فاخرہ کی ہاتھا پائی ہوتی ہیں۔ بلال فاخرہ کے سر پر کچھ ڈالتا ہے جس کو فاخرہ یہ سمجھتی ہیں کے کچھ پلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ تیزاب تھا . فاخرہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کپڑے  اپنی کھال میں حل ہوتے نظر آتے ہیں ، آگ لگنے سے اس کا جسم اور چہرہ بری طرح مسخ ہو جاتا ہے ۔ تین ماہ ہسپتال میں گزرنے کے بعد فاخرہ واپس آتی ہے۔ اسی درمیان  بلال سے اس کی مصالحت ہو چکی ہوتی ہیں۔ بلال اس کو لے کر اپنے فارم ہا وس آجاتا ہے اور اپنے خاندان سے الگ رکھتا ہے۔  فاخرہ اب بھی باورچی خانہ سنبھالتی ہے۔   دونوں کے درمیان جھگڑے چلتے رہے اور پھر اس زندگی سے تنگ آکرآخرکار  فاخرہ بلال سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس وقت تک ڈاکٹروں نے فاخرہ کے جڑے ہوے ہونٹ الگ کر دیے تھے اور اب فاخرہ  بول بھی سکتی تھی ، چل پھر بھی لیتی تھی ۔
فاخرہ اپنے لئے اور اپنے بچے کےلئے جینا چاہتی تھی اور اس زندگی کو آگے گھسیٹنے کے لئے اس نے تہمینہ دررانی کو مدد کا پیغام بھیجا ۔ تہمینہ درانی "شیر پنجاب ” کی چوتھی  بیوی تھی – انہوں نے بلال کی پرورش میں بھی اچھا کردار ادا کیا تھا۔ بلال اب ہی ان کو "ممی” کہہ کر پکارتا تھا۔ تہمینہ دررانی کی لکھی ہوئی کتاب”مائی فیوڈل لارڈ”  بہت مقبول ہوئی ،جس کا دنیا کی ٣٦ زبانوں میں ترجمہ ہوا اور کافی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ اس کتاب میں تہمینہ نے اپنی اور کھر کی زندگی کے بہت حقائق بیان کیے ہیں۔
تہمینہ کی کوشش تھی کے وہ دوبارہ فاخرہ کے خاندان سے دور ہی رہے مگر فاخرہ کی حالت دیکھ کر وہ مدد پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔اب بلال کھر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا تہمینہ کا عزم تھا ، اس کے بعد فاخرہ کو اس کی شکل اور اعتماد واپس کرنا اس کا ارادہ تھا۔ فاخرہ کو بہتر صورت میں لانے میں بھی کم سے کم ٣ سال کا عرصہ درکار تھا جس میں اس کو ٣٠ آپریشنوں سے گزرنا تھا ۔ تہمینہ دررانی نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اٹلی میں فاخرہ کا علاج کروانے کا ارادہ کیا جس کو  میلان میں قائم ایک کمپنی سینٹ انجلییکا

کاسمیٹکس Sant’Angelica cosmetics  نے فنڈ کیا اور فاخرہ کے علاج کے سارے اخراجات برداشت کرنے کا ذمہ اٹھایا۔ اس کے بعد کا مرحلہ فاخرہ  کو اٹلی لے کر جانے کا تھا جس کے لیے اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہونا ضروری تھا ۔ ان حالات میں اس وقت کے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کی مدد سے فاخرہ کا پاسپورٹ جنرل پرویز مشرف کے دفتر سے حاصل کیا گیا ۔ کیونکہ کچھ حکومتی اداروں کا خیال تھا کہ فاخرہ کا پاکستان سے باہر جانا پاکستان کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔

آخری خبر آنے تک فاخرہ اٹلی میں ہی تھی اور اپنےعلاج میں مصروف تھی ۔ وہ وہاں اطالوی زبان بھی سیکھ رہی تھی تاکہ وہ وہاں رہ سکے۔ تہمینہ بتاتی ہیں کے فاخرہ جیسے ہی اس قابل ہوگی کے وطن لوٹ کر آسکے وہ آئےگی۔ میں نے اس کو اس قابل بنا دیا ہے کے وہ اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ سکتی ہے ۔  فاخرہ کا چہرہ عورتوں کے خلاف مردوں کے جرم کا آئینہ ہے ، یہ فاخرہ کے لیے شرم کی وجہ نہیں ہے کیونکے شرم کا مقام پاکستان میں موجود طاقتور مردوں کے لئے ہے جو کسی بھی وقت عورت کی زندگی کو داغدار کر سکتے ہیں .

وہی فارورڈڈ میل؟

کچھ دن پہلے کسی کی بلاگ پر فارورڈڈ میلز کی بارے میں پڑھ رہا تھا. ایسی میل یقیناً سب کو ہی آتی ہوں گی۔ ان میں کبھی مفت لیپ ٹاپ ملنے کا جھانسا ہوتا ہے تو کبھی موبائل فون ملنے کا، یا کبھی کسی میل کو فارورڈ کر نے سے کوئی کمپنی کسی مریض کو پیسے دیتی ہے۔ اس قسم کی جعلی میلز کو میں نے کبھی لفٹ نہیں کروائی، ہاں البتہ کچھ میلز ایک دم دل کو چھو جاتی ہیں۔ میں جس میل کا ذکر کرنے جا رہا ہوں بہت ممکن ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو مگر پھر بھی ۔۔۔۔۔ وہ میل کچھ اس طرح ہے۔
میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔۔
آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔
٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور
میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔
٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا
٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔
٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری ی حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔
٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا
٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا
۔
٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے گیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

آج کل کی اس دور میں مشکلات اتنی ہو گیں ہیں کے اکثر انسان کا ضبط جواب دے جاتا ہے . بہت کچھ غیر ضروری بول جاتا ہے جو اس کو یقننا نہیں کہنا چاھیے . متذکرہ میل کو پڑھنے کے بعد مجھے بھی احساس ہوا کے مجھ سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں . خیر قصّہ مختصر ……. یہ تحریر صرف اس وجہ سے لکھ دی کہ شائد کوئی اور بھی پڑھے اور بہتری کی جانب آئے-
جن کے پاس ماں ہے۔۔۔اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں ،اس سے پہلے کہ یہ نعمت ان سے بچھڑ جائے۔
اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا

پچھلے کچھ دن سے زیروپوائنٹ کے پل کے نیچے کا راستہ بند تھا- تکلیف تو بہت ہویئ لیکن مجبوری تھی کیا کرتے- آج رات آفس سے واپس جاتے وقت ریڈیو پر سنا کہ اسلام آباد سے پنڈی جانے والاراستہ ٹریفک کے لئیے کھول دیا گیا ہے تو ناجانے کیوں گاڑی کا اسٹیرنگ موڑ دیا۔ مجھے کیا دیکھنے کی کھوج تھی ،معلوم نہیں۔ مجھے نظر آرہا تھا کی زیرو پونٹ کے پل کے اس پاس گرد کی بادل پھیلے ہوے ہیں۔بڑے بڑےٹرک مٹی اٹھائے ادھر سے ادھر جا رہے ہیں، گرد کے بادلوں میں گھسا تو نظر آیا کے یہ گرد تو زیرو پوائنٹ کے پل کی ہی ہے ۔ اس پل کو میں بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ بارہا اس کے نیچے سے گزرا ہوں گا ،بیسیوں بار اوپر سے ۔ آج اس کو اپنی جگہ پر نہ پا کر مجھے دکھ ہوا۔ شائد یہ نیا اسلام آباد ہے ۔ آج سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہ پرانا اسلام آباد کہیں کھو سا گیا ہے ۔ وہ سکون، وہ امن، وہ سبزہ ،وہ لوگ ، کچھ بھی تو پرانا نہیں رہا ، سب بدل گیا ۔شائد ہم ترقی کر رہے ہیں۔ یا شائد ہم سمجھ رہے ہیں کے ہم ترقی کر رہے ہیں .

دير آيد درست آيد!!

زندگي ميں پہلے مصروفيت کم تھی جو فيس بک نے اپنی جگہ بنا لی؟ جناب !! پان سگريٹ تمباکو جيسي نشہ آور اشيا کا بھی کيا نشہ ہوگاجو فيس بک کا ھے۔ کسي نےاپنا وقت ضائع کرنا ھو تو اس سے بہتر جگہ نا ملے گي? يہاں آپ کو کھيتي باڑي کے مواقع بھي مليں گے اور مچھلياں پالنے کے بھی۔ آپ فيس بک پر گينگسٹر بھی بن سکتے ھيں جوئے کے اڈے چلا سکتے ھيں۔ گاڑيوں کي ريس کروا ليں۔ اپنے پہلوانوں سے کشتي کرواليں۔ يہاں سب ممکن ہے۔ ياد رھے ان سب کاموں ميں آپ پيسہ خرچ تو کر سکتے ھيں کما نہيں سکتے? گزشتہ ماہ فيس بک اخبارات کي سرخيوں ميں رہا، وجہ سب کو پتہ ہے! دو دن کا بائکاٹ کيا واپس آگئے!!! بس! شايد ھم اتنے ھی مسلمان ھيں۔
آپ کہيں بھی ہوں . کہيں بھی جا رہے ہوں اپنے دوستوں کو فيس بک پر مطلع کر ديتے ہيں۔ اس سے دوستوں کو تو فائدہ ہوا ليکن دشمنوں کو بھی ہوا . ڈاکے پڑنے لگے گھروں ميں۔ اب اس کا کيا کيجيے۔ حضرات نے اپنےسا رے خاندان کي تصاوير فيس بک کي زينت بنا ڈالي ہيں۔ جس کو دنيا بھی ديکھتي ہے( يقين کيجيے اس ميں فيس بک کا کوئي قصور نہيں ہے)
ميري دانست ميں فيس بک صرف وقت کا زياع ہے۔اس بات کا احساس مجھے کافي وقت برباد کرنے کے بعد ہوا – ليکن دير آيد درست آيد!
اپني توجہ فيس بک سے ہٹانے کے ليے بلاگس کي جانب آگيا ، اب ديکھيے اس کے نقصانات مجھ پر کب عياں ہوتے ہيں۔ .