Archive for the ‘شاعری’ Category

اے مرے دوست

اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں
کتنےمقتول ہوئے تیغ جفا یاد نہیں
سر بازار یہ مقتل جو بنا رکھا ہے
کیا کوئی خوف خدا ، روز جزا یاد نہیں
مرے حاکم تیرامحکوم ہوں لیکن تجھ کو
حرف تعزیرسنا حرف دعا یاد نہیں
قوم کا جذب جنوں عہد وفا یاد نہیں
اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں

یہ نظم میرے خالو  پاشا حسینی نے 23 مارچ کو لکھی تھی جوآج پوسٹ کر رہا ہوں۔

Advertisements

نیا سال مبارک

گئے برس کی یہی بات یادگار رہی
فضاء گناہوں کے لئے خوب سازگار رہی
خبر تھی گو اسے اب معجزے نہیں ہوتے
حیات پھربھی مگر محو انتظار رہی

گاوں

یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاوں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاوں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے
یہاں ہر ایک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاوں میں
جہاں سچے رشتے یاروں کے
جہاں گھونگٹ زیور ناروں کے
جہاں جھرنے کومل سر والے
جہاں ساز بجے بن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاوں میں

محبت آزمانے دو


 

 

 

 

 

ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو
مجھے خاموش رہنے دو
سنا ہے عشق سچا ہو تو خاموشی
لہو بن کر رگوں میں ناچ اٹھتی ہے

ذرا اس کی رگوں میں خاموشی کو جھوم جانے دو
ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو

اسے میں کیوں بتاوں میں نےاس کو کتنا چاہا ہے
بتایا جھوٹ جاتا ہے
کہ سچی بات کی خوشبو تو خود محسوس ہوتی ہے
میری باتیں
میری سوچیں
اسے خود جان جانے دو
ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو
اگر وہ عشق کے احساس کو پہچان نا پائے
مجھے بھی جان نا پائے
تو پھر ایسا کرو اے دل
خود گمنام ہوجاو
مگر اس بےخبر کو زندگی بھر مسکرانے دو!!!

دستور

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سےجب کوئی بچہ گرے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری سانپ چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے
خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر
ہمارے شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر