Archive for the ‘سیاست’ Category

اے مرے دوست

اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں
کتنےمقتول ہوئے تیغ جفا یاد نہیں
سر بازار یہ مقتل جو بنا رکھا ہے
کیا کوئی خوف خدا ، روز جزا یاد نہیں
مرے حاکم تیرامحکوم ہوں لیکن تجھ کو
حرف تعزیرسنا حرف دعا یاد نہیں
قوم کا جذب جنوں عہد وفا یاد نہیں
اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں

یہ نظم میرے خالو  پاشا حسینی نے 23 مارچ کو لکھی تھی جوآج پوسٹ کر رہا ہوں۔

Advertisements

نیا سال مبارک

گئے برس کی یہی بات یادگار رہی
فضاء گناہوں کے لئے خوب سازگار رہی
خبر تھی گو اسے اب معجزے نہیں ہوتے
حیات پھربھی مگر محو انتظار رہی

کیا ھم مسلمان ہیں؟

ہمارے ملک میں ایک دم ہی سب چیزیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا گیس! کیا بجلی! کیا چینی اور کیا اخلاقیات۔ کل سی این جی کے لئے گاڑیوں کی لمبی لائن رات 2 بجے تک نظر آتی رہی۔ شاید اس کے بعد بھی گاڑیاں لائن میں لگتی رہی ہوں گی۔ کیا معلوم؟ پھر اسی پٹرول پمپ کے ساتھ مجھے کرسمس ٹری بھی روشن نظر آیا تو یادآیا کے مسیحی برادری کل اپنی عید منائے گی۔ کیا ھم خودغرض ہو گئے ہیں؟ یا ھمارا احساس مر گیا ہے؟ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہو سکتے تو کسی کی خوشی میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اگر سی این جی کی بندش ایک دن کے لئے نا کی جاتی تو کسی کو مسئلہ نا ہوتا، لیکن یہ ضرور ہوتا کے بہت سے بچے اپنی عید کو اپنے بڑوں کے ساتھ گھوم پھر کر اچھی طرح منا لیتے۔ مسلمانوں کی چاند رات پر ساری لوڈشیڈنگ موخر کر دی جا سکتی ہیں تو اس دن کیا مسئلہ تھا؟ دفتروں میں سب کو یہ فکر تو تھی کہ 27 دسمبر کی چھٹی ہے یا نہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ لانگ ویک اینڈ منا پائیں گے یا نہیں مگر کسی حکمران کو اس بات کا خیال نا آیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کے دن کو خاص بنانے کے لئے بہت محنت درکار نہیں ہے، صرف ایک دن سی این جی کھولنی ہے جو عام حالات میں بھی ہفتے کے 5 دن ملتی ہے۔ کاش ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کا بھی اسہی طرح خیال رکھیں جیسا ہم کو بحیثیت مسلمان رکھنا چاہیے!

بھیک دو

پتا نہیں وہ کیا کہ رہے تھے مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کے وہ سب مل کر "بھیک دو” "بھیک دو” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کے دفتر کے باہر چالیس پچاس لوگ دو تین بینر اٹھائے نعرے لگا رہے تھے۔ شائد ان کے علاقے میں امداد نہیں پہنچی تھی جس پر وہ سب لوگ اسلام آباد میں واقع دفتر کے سامنے شور مچا رہے تھے. تھوڑا آگے جا کر مجھے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر نظر آیا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کے ہم پاکستانی کس راستے پر چل پڑے ہیں ۔ پوری عوام کو بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے۔ کہیں انکم سپورٹ ، کہیں وسیلہ روزگار ، کہیں بیت المال ، کہیں وطن کارڈ ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ہماری حکومتوں میں سیاسی و سماجی شعور کی کمی ہے یا صرف اپنوں کو نوازنے والی پالیسی ہے ۔ ہمارے ملک سے ابھی ایک سیلابی ریلا گزرا ہے ،بلاشبہ بے تحاشا تباہی اور املاک کو نقصان پہنچا لیکن خدارا!  اب عوام کو واپس کاموں پر لگاو، اکثر ابھی تک کمپس میں بیٹھے امداد کے متظر ہیں۔ کہتے ہیں سیلاب کے بعد زمینیں زرخیز ہوجاتی ہیں ؟ تو اس سال ہماری میگا فصلیں ہونی چاہیے ۔ حکومت نے ابھی تک اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ محنت کشوں کو محنت کش ہی رہنے دیں ، بھکاری نہ بنائیں۔ ان کو واپس آباد کرنے میں ان کو مدد کی جائے تو بہتر نہ ہوگا؟ اچھے بیج فراہم کے جایئں ، زرعی قرضے آسان شرائط پر مہیا کریں ، کچھ رہنمائی تو کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!! سب کے ہاتھوں میں کشکول دے دیا ہے ۔ زمینداروں کو کھیتی باڑی کے لئے لوگ نہیں مل رہے ، کون کام کرے ؟ سب کے گھروں میں امدادی اشیا کا ڈھیر لگا ہے۔ وہ ختم ہوگا تو کام شروع ہوگا۔

اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے۔۔

میں ایک جنگلی بھینسا ہوں ۔ میرے آباو اجداد افریقہ کے جنگلات میں ایک زمانے سے آباد ہیں۔ میرا جینا ان ہی میدانوں میں ہوا ہے اور مرنا  بھی  اس ہی جگہ ہو گا۔ ہمارے اس ریوڑ میں ہر طرح کی بھینس اور ہر طرح کا بھینسا موجود ہے، جوان بوڑھا بچہ ہر عمر کا۔ اگر طاقت کا موازنہ کسی اور جانور سے کریں تو میں گھاس کھانے والے جانوروں میں سب سے طاقتور ہوں۔  میرا وزن  اور میرے سینگ مجھے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ میرے نوکیلے سینگ ایک بہترین ہتھیار ہیں۔ جو عموما ہم ایک دوسرے پر ہی آزماتے ہیں۔ ہم بھینسوں میں بھی عجیب محبت ہوتی ہے۔ ہم سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھے ہم کو ایک بات سختی سے سمجھا گئے ہیں کے متحد رہنا! اگر بکھرےتو دشمن تمھیں تکہ بوٹی کر دیں گے۔ وہ دن اور آج کا دن ہم ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔
اس ریوڑ کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی گروہ بندیاں ہیں۔ بھینس اور بھینسے کی جوڑی کی صورت میں یا بھینس اور بچھڑے کی صورت میں، ہر جوڑا اپنے حال میں مست ہے۔ کچھ مست ہیں کچھ بدمست ہیں۔
ہمارے  اردگرد سر سبز گھاس ہے، جو ہمارے لیے خدا کا تحفہ ہے۔ خدا کی اس زمین پر ہم اکیلی مخلوق نہیں ، اس جنگل میں بھانت بھانت کے جانور ، چرند پرند اور حشرات موجود ہیں۔ ہم بھینسوں کے لئے باعث پریشانی جو جانور ہیں وہ ہیں شیر اور چیتا۔ گوشت خورجانوروں میں یہ سب سے چالاک اور پھرتیلے ہیں۔ ان سے بچنا آسان نہیں ہے۔ یہ شکار بھی کرتے ہیں تو اتنا تھکا دیتے ہیں ہم خود ہی اپنی گردن ان کے سامنے کر دیتے ہیں۔ جو شکار ہوتا ہے اس کو بھگا بھگا کر اپنے ریوڑ سے الگ کر دیتے ہیں۔ جو بھاگتے بھاگتے پیچھے رہ جاتا ہے وہی ان کا کھاجا بن جاتا ہے۔ یہ تواتحاد نا ہوا۔ ساتھ بھاگنا متحد ہونا نہیں ہے۔ ساتھ گھاس چرنے کو اتحاد نہیں کہتے۔ اللہ نے ہم کو اتنا طاقتور تو بنایا ہے کی اگر ہم اس ایک شیر کے سامنے مل کر کھڑے ہوجائیں تو ہم اس کو سبق سکھا سکتے  ہیں یا کم سے کم بھاگنے پر مجبور تو کر سکتے ہیں۔ کسی ایک بھینسے کا شکار کرنا تو آسان ہو سکتا ہے لیکن ایک وقت میں بہت سارے بھینسوں سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔
آج اس بات پر سب بھینسوں کو قائل بھی کر لیا ہے کہ اس بار شیر حملہ کرے گا تو کسی نے نہیں بھاگنا۔ سامنے کھڑے رہ کر مقابلہ کرنا ہے۔  دو تین دن سے کسی شیر نے حملہ نہیں کیا ہے ، امید ہے کہ آج یا کل کوئی نہ کوئی شیر یا چیتا ہمارے غول پر بری نظر ضرور ڈالے گا۔ تمام جنگی حربے تمام بھینسوں کو بتا دے گئے ہیں ۔ اس بار پتا چلے گا کے ہم کتنے ٹھیک ہیں اور کتنے غلط ۔
سو وہ دن  بھی آن پہنچا کہ ہم سب نے خطرے کی بو سونگھ لی ، سب کو پتا تھا کے شیر کہیں قریب میں ہی گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کسی بھی وقت شیر سامنے آسکتا ہے اور ہم کو بھاگنے کی بجائے طے کردہ حکمت عملی پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کے بہت سے نوجوان بھینسے جوش میں تھے اور کچھ کمزور دل ایک دوسرے کے پیچھے چھپ رہے تھے ۔ شائد ان کو اپنے اوپر یقین نہیں تھا ۔ اسہی اثنا میں بھگداڑ مچ گئی اور بہت سے بھینسوں نے اپنی جبلت سے مجبور ہو کر بھاگنا شروع کر دیا ۔ لیکن جلد ہی ان کو محسوس ہو گیا کہ بھاگنا موت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم سب ایک جگہ کھڑے تھے اور شیر ہم سے کچھ دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس سے پہلے کے شیر ہماری طرف پیش قدمی کرتا ہم سب نے اس کی جانب چلنا شروع کر دیا۔ شیر ایک لمحے کو سٹپٹایا اور اپنے آپ کو اتنے سارے بھینسوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر الٹے قدم واپس چلنے لگا۔ اتنی تعداد میں طاقتور بھینسوں کو ایک ساتھ اپنی جانب آتا دیکھ کر اس کے پاس اور کوئی چارا بھی نہیں تھا۔ ہم سب نے اس کو جاتا دیکھ کر اپنے قدم اور تیز کر دیے ۔ اب حالت یہ تھی کے شیر آگے تھا اور بھینسوں کی فوج اس کے پیچھے ۔ اپنی فتح پر مجھے جتنی خوشی آج تھی یقینا پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ آج مجھے متحد ہونے کا سہی مطلب پتا چلا۔ ہم سب خوشی سے سرپٹ بھاگ رہے تھے  کہ مجھے ٹھوکر لگی اور میں میدان میں گر گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو بستر سے نیچے گرا ہوا پایا۔ دوسرے ہی لمحے اس بات کا ادراک ہو گیا کے یہ سب ایک خواب تھا۔ بستر پر واپس آتے آتے مجھے قوم اور ہجوم کا فرق سمجھ آچکا تھا ۔ میں اس خواب کے تمام کرداروں کو اپنے ملک کے حالات پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور دوبارہ سونے سے پہلے میں شیر پر پریشانیوں ، مہنگائی ، شدت پسند ، ظلم، زیادتیوں اور خود غرض حکمرانوں  کا لیبل لگا چکا تھا اور بھینسوں کا وہ ہجوم جو ایک قوم میں تبدیل ہو گیا تھا ، پر پاکستانیوں کا نام لکھ چکا تھا۔  اس دعا کے ساتھ میں سکون  سے سو گیا کہ الله میرے اس خواب کوجلد حقیقت کر دے۔ آمین