Archive for the ‘زھرہ نگاہ’ Category

دستور

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سےجب کوئی بچہ گرے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری سانپ چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے
خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر
ہمارے شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر