Archive for the ‘جزبات’ Category

اے مرے دوست

اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں
کتنےمقتول ہوئے تیغ جفا یاد نہیں
سر بازار یہ مقتل جو بنا رکھا ہے
کیا کوئی خوف خدا ، روز جزا یاد نہیں
مرے حاکم تیرامحکوم ہوں لیکن تجھ کو
حرف تعزیرسنا حرف دعا یاد نہیں
قوم کا جذب جنوں عہد وفا یاد نہیں
اے مرے دوست تجھے رسم وفا یاد نہیں

یہ نظم میرے خالو  پاشا حسینی نے 23 مارچ کو لکھی تھی جوآج پوسٹ کر رہا ہوں۔

کیا ھم مسلمان ہیں؟

ہمارے ملک میں ایک دم ہی سب چیزیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا گیس! کیا بجلی! کیا چینی اور کیا اخلاقیات۔ کل سی این جی کے لئے گاڑیوں کی لمبی لائن رات 2 بجے تک نظر آتی رہی۔ شاید اس کے بعد بھی گاڑیاں لائن میں لگتی رہی ہوں گی۔ کیا معلوم؟ پھر اسی پٹرول پمپ کے ساتھ مجھے کرسمس ٹری بھی روشن نظر آیا تو یادآیا کے مسیحی برادری کل اپنی عید منائے گی۔ کیا ھم خودغرض ہو گئے ہیں؟ یا ھمارا احساس مر گیا ہے؟ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہو سکتے تو کسی کی خوشی میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اگر سی این جی کی بندش ایک دن کے لئے نا کی جاتی تو کسی کو مسئلہ نا ہوتا، لیکن یہ ضرور ہوتا کے بہت سے بچے اپنی عید کو اپنے بڑوں کے ساتھ گھوم پھر کر اچھی طرح منا لیتے۔ مسلمانوں کی چاند رات پر ساری لوڈشیڈنگ موخر کر دی جا سکتی ہیں تو اس دن کیا مسئلہ تھا؟ دفتروں میں سب کو یہ فکر تو تھی کہ 27 دسمبر کی چھٹی ہے یا نہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ لانگ ویک اینڈ منا پائیں گے یا نہیں مگر کسی حکمران کو اس بات کا خیال نا آیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کے دن کو خاص بنانے کے لئے بہت محنت درکار نہیں ہے، صرف ایک دن سی این جی کھولنی ہے جو عام حالات میں بھی ہفتے کے 5 دن ملتی ہے۔ کاش ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کا بھی اسہی طرح خیال رکھیں جیسا ہم کو بحیثیت مسلمان رکھنا چاہیے!

گاوں

یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاوں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاوں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے
یہاں ہر ایک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاوں میں
جہاں سچے رشتے یاروں کے
جہاں گھونگٹ زیور ناروں کے
جہاں جھرنے کومل سر والے
جہاں ساز بجے بن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاوں میں

بھیک دو

پتا نہیں وہ کیا کہ رہے تھے مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کے وہ سب مل کر "بھیک دو” "بھیک دو” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کے دفتر کے باہر چالیس پچاس لوگ دو تین بینر اٹھائے نعرے لگا رہے تھے۔ شائد ان کے علاقے میں امداد نہیں پہنچی تھی جس پر وہ سب لوگ اسلام آباد میں واقع دفتر کے سامنے شور مچا رہے تھے. تھوڑا آگے جا کر مجھے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر نظر آیا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کے ہم پاکستانی کس راستے پر چل پڑے ہیں ۔ پوری عوام کو بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے۔ کہیں انکم سپورٹ ، کہیں وسیلہ روزگار ، کہیں بیت المال ، کہیں وطن کارڈ ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ہماری حکومتوں میں سیاسی و سماجی شعور کی کمی ہے یا صرف اپنوں کو نوازنے والی پالیسی ہے ۔ ہمارے ملک سے ابھی ایک سیلابی ریلا گزرا ہے ،بلاشبہ بے تحاشا تباہی اور املاک کو نقصان پہنچا لیکن خدارا!  اب عوام کو واپس کاموں پر لگاو، اکثر ابھی تک کمپس میں بیٹھے امداد کے متظر ہیں۔ کہتے ہیں سیلاب کے بعد زمینیں زرخیز ہوجاتی ہیں ؟ تو اس سال ہماری میگا فصلیں ہونی چاہیے ۔ حکومت نے ابھی تک اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ محنت کشوں کو محنت کش ہی رہنے دیں ، بھکاری نہ بنائیں۔ ان کو واپس آباد کرنے میں ان کو مدد کی جائے تو بہتر نہ ہوگا؟ اچھے بیج فراہم کے جایئں ، زرعی قرضے آسان شرائط پر مہیا کریں ، کچھ رہنمائی تو کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!! سب کے ہاتھوں میں کشکول دے دیا ہے ۔ زمینداروں کو کھیتی باڑی کے لئے لوگ نہیں مل رہے ، کون کام کرے ؟ سب کے گھروں میں امدادی اشیا کا ڈھیر لگا ہے۔ وہ ختم ہوگا تو کام شروع ہوگا۔

محبت آزمانے دو


 

 

 

 

 

ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو
مجھے خاموش رہنے دو
سنا ہے عشق سچا ہو تو خاموشی
لہو بن کر رگوں میں ناچ اٹھتی ہے

ذرا اس کی رگوں میں خاموشی کو جھوم جانے دو
ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو

اسے میں کیوں بتاوں میں نےاس کو کتنا چاہا ہے
بتایا جھوٹ جاتا ہے
کہ سچی بات کی خوشبو تو خود محسوس ہوتی ہے
میری باتیں
میری سوچیں
اسے خود جان جانے دو
ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو
اگر وہ عشق کے احساس کو پہچان نا پائے
مجھے بھی جان نا پائے
تو پھر ایسا کرو اے دل
خود گمنام ہوجاو
مگر اس بےخبر کو زندگی بھر مسکرانے دو!!!

اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے۔۔

میں ایک جنگلی بھینسا ہوں ۔ میرے آباو اجداد افریقہ کے جنگلات میں ایک زمانے سے آباد ہیں۔ میرا جینا ان ہی میدانوں میں ہوا ہے اور مرنا  بھی  اس ہی جگہ ہو گا۔ ہمارے اس ریوڑ میں ہر طرح کی بھینس اور ہر طرح کا بھینسا موجود ہے، جوان بوڑھا بچہ ہر عمر کا۔ اگر طاقت کا موازنہ کسی اور جانور سے کریں تو میں گھاس کھانے والے جانوروں میں سب سے طاقتور ہوں۔  میرا وزن  اور میرے سینگ مجھے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ میرے نوکیلے سینگ ایک بہترین ہتھیار ہیں۔ جو عموما ہم ایک دوسرے پر ہی آزماتے ہیں۔ ہم بھینسوں میں بھی عجیب محبت ہوتی ہے۔ ہم سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھے ہم کو ایک بات سختی سے سمجھا گئے ہیں کے متحد رہنا! اگر بکھرےتو دشمن تمھیں تکہ بوٹی کر دیں گے۔ وہ دن اور آج کا دن ہم ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔
اس ریوڑ کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی گروہ بندیاں ہیں۔ بھینس اور بھینسے کی جوڑی کی صورت میں یا بھینس اور بچھڑے کی صورت میں، ہر جوڑا اپنے حال میں مست ہے۔ کچھ مست ہیں کچھ بدمست ہیں۔
ہمارے  اردگرد سر سبز گھاس ہے، جو ہمارے لیے خدا کا تحفہ ہے۔ خدا کی اس زمین پر ہم اکیلی مخلوق نہیں ، اس جنگل میں بھانت بھانت کے جانور ، چرند پرند اور حشرات موجود ہیں۔ ہم بھینسوں کے لئے باعث پریشانی جو جانور ہیں وہ ہیں شیر اور چیتا۔ گوشت خورجانوروں میں یہ سب سے چالاک اور پھرتیلے ہیں۔ ان سے بچنا آسان نہیں ہے۔ یہ شکار بھی کرتے ہیں تو اتنا تھکا دیتے ہیں ہم خود ہی اپنی گردن ان کے سامنے کر دیتے ہیں۔ جو شکار ہوتا ہے اس کو بھگا بھگا کر اپنے ریوڑ سے الگ کر دیتے ہیں۔ جو بھاگتے بھاگتے پیچھے رہ جاتا ہے وہی ان کا کھاجا بن جاتا ہے۔ یہ تواتحاد نا ہوا۔ ساتھ بھاگنا متحد ہونا نہیں ہے۔ ساتھ گھاس چرنے کو اتحاد نہیں کہتے۔ اللہ نے ہم کو اتنا طاقتور تو بنایا ہے کی اگر ہم اس ایک شیر کے سامنے مل کر کھڑے ہوجائیں تو ہم اس کو سبق سکھا سکتے  ہیں یا کم سے کم بھاگنے پر مجبور تو کر سکتے ہیں۔ کسی ایک بھینسے کا شکار کرنا تو آسان ہو سکتا ہے لیکن ایک وقت میں بہت سارے بھینسوں سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔
آج اس بات پر سب بھینسوں کو قائل بھی کر لیا ہے کہ اس بار شیر حملہ کرے گا تو کسی نے نہیں بھاگنا۔ سامنے کھڑے رہ کر مقابلہ کرنا ہے۔  دو تین دن سے کسی شیر نے حملہ نہیں کیا ہے ، امید ہے کہ آج یا کل کوئی نہ کوئی شیر یا چیتا ہمارے غول پر بری نظر ضرور ڈالے گا۔ تمام جنگی حربے تمام بھینسوں کو بتا دے گئے ہیں ۔ اس بار پتا چلے گا کے ہم کتنے ٹھیک ہیں اور کتنے غلط ۔
سو وہ دن  بھی آن پہنچا کہ ہم سب نے خطرے کی بو سونگھ لی ، سب کو پتا تھا کے شیر کہیں قریب میں ہی گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کسی بھی وقت شیر سامنے آسکتا ہے اور ہم کو بھاگنے کی بجائے طے کردہ حکمت عملی پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کے بہت سے نوجوان بھینسے جوش میں تھے اور کچھ کمزور دل ایک دوسرے کے پیچھے چھپ رہے تھے ۔ شائد ان کو اپنے اوپر یقین نہیں تھا ۔ اسہی اثنا میں بھگداڑ مچ گئی اور بہت سے بھینسوں نے اپنی جبلت سے مجبور ہو کر بھاگنا شروع کر دیا ۔ لیکن جلد ہی ان کو محسوس ہو گیا کہ بھاگنا موت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم سب ایک جگہ کھڑے تھے اور شیر ہم سے کچھ دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس سے پہلے کے شیر ہماری طرف پیش قدمی کرتا ہم سب نے اس کی جانب چلنا شروع کر دیا۔ شیر ایک لمحے کو سٹپٹایا اور اپنے آپ کو اتنے سارے بھینسوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر الٹے قدم واپس چلنے لگا۔ اتنی تعداد میں طاقتور بھینسوں کو ایک ساتھ اپنی جانب آتا دیکھ کر اس کے پاس اور کوئی چارا بھی نہیں تھا۔ ہم سب نے اس کو جاتا دیکھ کر اپنے قدم اور تیز کر دیے ۔ اب حالت یہ تھی کے شیر آگے تھا اور بھینسوں کی فوج اس کے پیچھے ۔ اپنی فتح پر مجھے جتنی خوشی آج تھی یقینا پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ آج مجھے متحد ہونے کا سہی مطلب پتا چلا۔ ہم سب خوشی سے سرپٹ بھاگ رہے تھے  کہ مجھے ٹھوکر لگی اور میں میدان میں گر گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو بستر سے نیچے گرا ہوا پایا۔ دوسرے ہی لمحے اس بات کا ادراک ہو گیا کے یہ سب ایک خواب تھا۔ بستر پر واپس آتے آتے مجھے قوم اور ہجوم کا فرق سمجھ آچکا تھا ۔ میں اس خواب کے تمام کرداروں کو اپنے ملک کے حالات پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور دوبارہ سونے سے پہلے میں شیر پر پریشانیوں ، مہنگائی ، شدت پسند ، ظلم، زیادتیوں اور خود غرض حکمرانوں  کا لیبل لگا چکا تھا اور بھینسوں کا وہ ہجوم جو ایک قوم میں تبدیل ہو گیا تھا ، پر پاکستانیوں کا نام لکھ چکا تھا۔  اس دعا کے ساتھ میں سکون  سے سو گیا کہ الله میرے اس خواب کوجلد حقیقت کر دے۔ آمین

دستور

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سےجب کوئی بچہ گرے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری سانپ چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے
خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر
ہمارے شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر

مشکلات کا سیلاب

کیا ہم واقعی بےحس ہو چکے ہیں؟ ٢٠٠٥ میں بھی تو ہم ہی تھے نہ ؟ اس وقت ہم کیسے ایک ہو گئے تھے ؟ اس وقت تو امدادی سامان کے ڈھیر لگ گئے تھے ۔ اتنا سامان ہو گیا تھا کے سبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔ آج کیا ہوا؟ اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ میرے ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی مسئلا درپیش ہے۔ بیرونی طاقتوں نے ہم کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اب ہم کو دائیں بائیں دیکھنے کی فرصت ہی نہیں رہی ۔ کچھ دن پہلے ایک ایسی ہی ویب سائٹ پر پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پڑھتے ہوئے مجھے جھرجھری آگئی۔ یہ ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔ ایک کے بعد ایک مسئلہ ، ہم پر ہی کچھ برا وقت ہے ۔ اس پر کسی نے اچھا کہا کہ

الله  ہم سے   ناراض ہے یہ قرآن نے  بتا  دیا
مرے وطن کی حالت نے بادلوں کو بھی رلا دیا
ہواؤں  کی  ناراضگی  کا تب  علم ہوا   ہم    کو
جب   کسی  پرواز  کو  اس نے زمیں پر گرا دیا
یوں   خون کو  بہتا دیکھ کر  دریا سے رہا  نہ گیا
اک آنسوؤں کا سیلاب گلیوں تک میں بہا دیا
یہ پاک     زمین     رو رو      کر یہ کہتی       ہے
ایسے گناہگار لوگوں کو یا رب کیوں مجھ پر بسا دیا

جس ملک کے حکمران اس کٹھن وقت میں اپنی ذاتی مصروفیات ترک نہ کر سکیں تو اس ملک کے عوام بھی یقینا ایک دوسرے کا دکھ درد نہیں بانٹ سکیں گے ۔ ایسے میں ان کو جوتے ہی پڑنے چاہے۔ جب پاکستان کے اپنی عوام کو ان پر یقین نہ ہو تو دوسرے ملک کے لوگ کس طرح ان کا ساتھ دیں گے۔ شائد جن سرکاری دفاتر میں ایک یا دو دن کی تنخواہ زبردستی کاٹی گئی ہے وہ ہی روپے سرکاری مد میں جمع ہوے ہوں گے ورنہ کس نے ان کو پیسے دیے ہوں گے؟ جن لوگوں نے واقعی مدد کرنی تھی وہ یا تو خود براہ راست مدد کر رہے ہیں یا پھر کسی ایسے ادارے کے ذریعے مدد کر رہے ہیں جس پر ان کو بھروسہ ہے ۔ الله تعالی بھی تو امتحان لیتا ہے ، کہاں دریا خشک تھے اب بھرے تو ایسے کے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ خدا کی قدرت! !
صحرا تو بوند کو بھی ترستا دکھائی دے
بادل  سمندروں پہ برستا   دکھائی دے
درخواست  صرف اتنی ہے کے ان سیلاب زدگان کی مدد ضرور کریں چاہے کسی ذریعے سے کریں ۔ ان کو ہماری ضرورت ہے

انسانیت

شائد آج جون کا گرم ترین دن تھا۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آج دھوپ کی تمازت کچھ زیادہ ہی ہے۔ راستے میں دھوپ سے جھلستا ہوا دفتر پہنچا تو کام کا ایک امبار میرا منتظر تھا۔ جیسے تیسے کام کر کے شام کو دفتر سے نکلا تو اندازہ ہوا کے موسم یکسر بدل چکا ہے۔ آسمان پر بادل بھی ہیں اور ہوا میں بھی تھوڑی ٹھنڈک ہے ایسے میں سوچا چلو تھوڑا گھومتے ہوئے ہی گھر جاتا ہوں- ملا کی دوڑ مسجد تک اور میری جناح سپر تک، سو جا پہنچا- لیمن سوڈے کا آرڈر دیا اور صحن میں لگی کرسیوں میں سے ایک پر جا بیٹھا۔ لگ رہا تھا موسم کا مزہ لینے ساری دنیا ہی گھروں سے باہر آ گئی ہے ۔ میرے آس پاس بھی کافی لوگ تھے اور بلکل سامنے کھڑی گاڑیوں میں بھی کچھ لوگ بیٹھے نظر آرہے تھے۔ میرے قریب ہی دو بچے کارٹونوں کی کتابیں لئے آپس میں اٹکیلیاں کر رہے تھے، اور کیوں نہ کرتے موسم پر ان کا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا میرا یا کسی اور کا تھا۔ اکیلا ہونے کے ناتے اردگرد کے لوگوں کو دیکھنے کے علاوہ میرا کچھ اور کام بھی نہ تھا کہ جب تک سوڈا نہ آجاتا۔ میری توجہ بار بار انہی دو بچوں پر جا ٹہرتی ،  جو کارٹونوں کی کتابیں بیچنے کے لئے گھروں سے نکلے تھے۔ ان دونوں کی عمریں بھی ان ہی کتابوں کو پڑھنے کی ہوں گی۔ میں سوچ ہی رہا تھا کے یہ بچے میرے پاس کتابیں بیچنے کیوں نہیں آیے۔اتنے میں پاس ہی ایک چمکدار خوبصورت سفید گاڑی آکر رکی۔ سامنے والی نشست پر ایک صاحب سفید  کلف شدہ قمیض شلوار میں ملبوس براجمان تھے ، ساتھ میں یقینا ان کی بیوی ہوگی۔ ابھی دھیان ان کی گاڑی سے ہٹا نہیں تھا کے دونوں بچے میرے سامنے سے بھاگتے ہوے گاڑی کی جانب لپکے۔ مجھے میرے سوال کاجواب مل گیا تھا کہ یہ بچے میرے پاس کیوں نہیں آیے۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر تین  بچے بھی تھے۔ یہی ان کے ممکنہ خریدار ہو سکتے تھے ،  کتابیں بیچنے والے دونوں بچے گاڑی کے شیشے سے کتابیں گاڑی میں بیٹھے ہوے بچوں کو دیکھا رہے تھے۔ شاید کارٹون سب بچوں کی کمزوری ہوتے ہیں سو وہ بھی توجہ سے ان کی جانب دیکھ رہے تھے- گاڑی چلانے والے ابّو کو شاید کتابوں سے کوئی  شغف نہیں تھا اور نہ ہی مجھے لگ رہا تھا کے وہ اپنے بچوں کے لئے کتابیں خریدیں گے۔ اتنے میں میرا لیمن سوڈا آگیا اور میرا دھیان ان بچوں سے نکل کر سوڈے میں چلا گیا۔ سوڈا بنا بھی میری مرضی کا تھا تو اور بھی مزہ آرہا تھا۔ اسہی اثنا میں مجھے زور سے بولنے کی آوازیں آئیں، جو دیکھا تو کتابیں بیچنے والا لڑکا زمین پر گرا ہوا ہے اور وہ سفید چمکدار گاڑی والا شخص بچے کو ایک تھپڑ رسید کرنے کے بعد واپس گاڑی میں بیٹھ رہا تھے۔ ایک لمحے کو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا ، وہ بچہ روتا ہوا اٹھ رہا تھا کہ سامنے سے ہی ایک ویٹر اس گاڑی والے سے دریافت کرنے لگا کہ کیا ماجرا ہوا۔ میرا تجسس بڑھا تو میں بھی قریب ہو گیا۔ اک لمحےمیں مجھے وہ سفید کلف میں ملبوس شخص اتنا گندا لگنے لگا کےدل چاہا کہ اس کا گریبان پکڑ لوں۔ اس بچے پر ہاتھ صرف اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ اس نے صاف شیشے گندے کر دیے تھے ۔ وہ دونوں بچے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نجانے کس طرف نکل گئے اور میں سوچتا ہی رہ گیا کے ایسے بھی لوگ ہیں جو انسان کو انسان نہیں سمجھتے ۔ ایسے لوگ اپنی نئی نسل کو کیا تربیت دیں گے ؟ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کا مثبت  فعال پرزہ  بن سکتےہیں؟  یہ تو شکر ہے کے ایسے لوگ کم ہیں ورنہ ہمارا معاشرہ تو چاروں شانے چت زمین پر ڈھیر نظر آئے ۔ مجھے ایسے لوگوں سے ہمدردی بھی ہے کے یقینا ان کے ساتھ غریبوں کی بد دعائیں چلتی ہوں گی. بد نصیب !!!!!

پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں ناں رکھ لیا قاضی

ہتھ   وچ پھڑ کے تلوار توں   ناں رکھ  لیا  غازی

مکے   مدینے  گھوم  آیاں تے   ناں رکھ  لیا  حاجی

بلھے شاہ حاصل کی کیتا، جے توں یار نا رکھیا   راضی