کیا ھم مسلمان ہیں؟


ہمارے ملک میں ایک دم ہی سب چیزیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا گیس! کیا بجلی! کیا چینی اور کیا اخلاقیات۔ کل سی این جی کے لئے گاڑیوں کی لمبی لائن رات 2 بجے تک نظر آتی رہی۔ شاید اس کے بعد بھی گاڑیاں لائن میں لگتی رہی ہوں گی۔ کیا معلوم؟ پھر اسی پٹرول پمپ کے ساتھ مجھے کرسمس ٹری بھی روشن نظر آیا تو یادآیا کے مسیحی برادری کل اپنی عید منائے گی۔ کیا ھم خودغرض ہو گئے ہیں؟ یا ھمارا احساس مر گیا ہے؟ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہو سکتے تو کسی کی خوشی میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اگر سی این جی کی بندش ایک دن کے لئے نا کی جاتی تو کسی کو مسئلہ نا ہوتا، لیکن یہ ضرور ہوتا کے بہت سے بچے اپنی عید کو اپنے بڑوں کے ساتھ گھوم پھر کر اچھی طرح منا لیتے۔ مسلمانوں کی چاند رات پر ساری لوڈشیڈنگ موخر کر دی جا سکتی ہیں تو اس دن کیا مسئلہ تھا؟ دفتروں میں سب کو یہ فکر تو تھی کہ 27 دسمبر کی چھٹی ہے یا نہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ لانگ ویک اینڈ منا پائیں گے یا نہیں مگر کسی حکمران کو اس بات کا خیال نا آیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کے دن کو خاص بنانے کے لئے بہت محنت درکار نہیں ہے، صرف ایک دن سی این جی کھولنی ہے جو عام حالات میں بھی ہفتے کے 5 دن ملتی ہے۔ کاش ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کا بھی اسہی طرح خیال رکھیں جیسا ہم کو بحیثیت مسلمان رکھنا چاہیے!

Advertisements

11 responses to this post.

  1. Let me correct you.. This is not eid for christian,,, this is christmass the birth day of Jesus Christ and he is masaiah according to Quran Surah Maryuim.

    جواب دیں

  2. ایک عدد چھٹی مل جاتی ہے، اوپر سے ہر چیز کی اجازت اور کیا چاہئے ؟؟؟
    پاکستان میں اقلیتیوں کا جتنا خیال رکھا جاتا ہے مغرب کے کسی ملک میں نہیں رکھنا جاتا پھر بھی نام نہاد روشن خیال بلا وجہ کی چوں چوں کرتے ہیں۔ جرمنی میں پچھلے سال عید کے دن نو موٹر ڈے بنایا گیا اور مسلمان عید کی نماز کے لئے بھی نہ نکل سکے، امریکہ میں میر کئی عید کے دن کام پر جاتے ہیں وہ نظر نہیں آتا۔

    جواب دیں

  3. لیجئیے یہاں تو یہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ غیر مسلموں کو مبارکباد بھی دی جائے یا نہیں۔ آپ نے اتنے بڑے مسائل چھیڑ دئیے۔ اور اب آپکو پتہ چل گیا کہ جس دن مغربی ممالک چھٹی دیں گے اس دن ہی ہم ایسا کچھ کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ انہیں ہم سے آگے رہنا چاہئیے۔

    جواب دیں

  4. عيسائيوں کے ملکوں ميں مسلمان عيد کی نماز کيلئے جازت مانگتے ہيں تو کہا جاتا ہے اتوار کے دن کر لو ۔ کئی ممالک ميں عورتوں کا سر ڈھانپنا ممنوع ہے

    جواب دیں

  5. اوپر کاشف نصیر کا تبصرہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ مسلمان جرمنی میں آزادانہ عید مناتے ہیں۔ اول تو ایسا کوئی نو موٹر ڈے منایا ہی نہیں گیا اور اگر منایا بھی جائے تو شاندار جرمن ٹرانسپورٹ سسٹم کی وجہ سے کہیں جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اس لئے بے کار کی گپیں مار کر اپنے آپ اور دوسروں کا گمراہ نہ کریں۔

    جواب دیں

  6. اجمل صاحب سے بھی گذارش ہے کہ یہ بھی لکھ دیجئے کہ کس مغربی ملک میں سر ڈھانکنا منع ہے؟ اور کس ملک میں عید اتوار کے دن کرنے کو کہا گیا ہے؟ صرف فرانس میں ایک قانون ابھی پاس ہوا ہے جس میں عورت کہ نقاب سے منع کیا گیا ہے۔ سر ڈھانکنے اور نقاب میں زمیں آسمان کا فرق ہے۔
    عید کے اجتماع میں آپ سڑکیں بلاک کر دیں تو ظاہر ہے غیر مسلم اعتراض تو کریں گے ہی۔ لیکن مساجد کے اندر ھزاروں کا اجتماع ہوتا ہے نہ صرف عید پر بلکہ ھر جمعہ پر

    جواب دیں

  7. بہت سارے اسلامی ممالک میں غیر مسلم خواتین کا بھی سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ کینیڈا امریکہ آسٹریلیا میں اگر چھٹی مانگیں تو ملتی ہے مگر سالانہ چھٹی میں سے کٹتی ہے۔

    جواب دیں

  8. میری رائے میں ہمیں اپنے مسلمان ہونے کا ثبور دیتے ہوئے پاکستان میں بسنے والے دیگر غیر مسلموں کے جائز حقوق کا اتنا ہی خیال رکھنا چاہئیے جتنا ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کا خیال رکھنے پہ زور دیتا ہے۔ یہ اسلامی فریضہ بھی ہے اور انسانی تقاضہ بھی۔ اسمیں مغرب کی تقلید یا مخالفت کا کوئی پہلو مدنظر نہیں رکھا جانا چاہئیے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیاکرتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارا اعلٰی اسلامی اخلاق اس بارے کیا کہتا ہے۔ اور میرے رائے میں کسی مسلمان ریاست میں بسنے والے غیر مسلموں کے جائز حقوق کا خیال رکھنا اس ریاست کے مسلمانوں کا فرض بنتا ہے۔

    جواب دیں

  9. نیز اللہ تعالٰی جن قوموں کو فنا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ ان قوموں کا اخلاق سب سے پہلے تباہ ہوتا ہے۔

    جواب دیں

  10. میرے دوست نے آپ نے یه جو لکها هے قابل احترام هے لیکن سوال یه اٹهتا هے که کیا هماری حکومت اکثریت کو ان کی ضروریات فراهم کر رهی هے جو وه بےچاری اقلیت کو دے گی. ان کی اپنی عیّاشیاں ختم هوں گی تو عوام انناس کی فکر کریں گے نه….. سو میرے بهایوں فکر نه فاقه عیش کر کاکا…..

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: