بھیک دو


پتا نہیں وہ کیا کہ رہے تھے مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کے وہ سب مل کر "بھیک دو” "بھیک دو” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کے دفتر کے باہر چالیس پچاس لوگ دو تین بینر اٹھائے نعرے لگا رہے تھے۔ شائد ان کے علاقے میں امداد نہیں پہنچی تھی جس پر وہ سب لوگ اسلام آباد میں واقع دفتر کے سامنے شور مچا رہے تھے. تھوڑا آگے جا کر مجھے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر نظر آیا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کے ہم پاکستانی کس راستے پر چل پڑے ہیں ۔ پوری عوام کو بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے۔ کہیں انکم سپورٹ ، کہیں وسیلہ روزگار ، کہیں بیت المال ، کہیں وطن کارڈ ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ہماری حکومتوں میں سیاسی و سماجی شعور کی کمی ہے یا صرف اپنوں کو نوازنے والی پالیسی ہے ۔ ہمارے ملک سے ابھی ایک سیلابی ریلا گزرا ہے ،بلاشبہ بے تحاشا تباہی اور املاک کو نقصان پہنچا لیکن خدارا!  اب عوام کو واپس کاموں پر لگاو، اکثر ابھی تک کمپس میں بیٹھے امداد کے متظر ہیں۔ کہتے ہیں سیلاب کے بعد زمینیں زرخیز ہوجاتی ہیں ؟ تو اس سال ہماری میگا فصلیں ہونی چاہیے ۔ حکومت نے ابھی تک اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ محنت کشوں کو محنت کش ہی رہنے دیں ، بھکاری نہ بنائیں۔ ان کو واپس آباد کرنے میں ان کو مدد کی جائے تو بہتر نہ ہوگا؟ اچھے بیج فراہم کے جایئں ، زرعی قرضے آسان شرائط پر مہیا کریں ، کچھ رہنمائی تو کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!! سب کے ہاتھوں میں کشکول دے دیا ہے ۔ زمینداروں کو کھیتی باڑی کے لئے لوگ نہیں مل رہے ، کون کام کرے ؟ سب کے گھروں میں امدادی اشیا کا ڈھیر لگا ہے۔ وہ ختم ہوگا تو کام شروع ہوگا۔

Advertisements

12 responses to this post.

  1. […] This post was mentioned on Twitter by Shoiab Safdar, Urdublogz.com. Urdublogz.com said: UrduBlogz-: بھیک دو http://bit.ly/9Q6ZXv […]

    جواب دیں

  2. کیونکہ حکمران کی دیکھادیکھی عوام نےیہ بات دیکھـ لی ہےکہ بھیک مانگنےسےمحنت کی مشقت سےانسان بچ جاتاہےسویہی کام پراب سارےلگ گئےہیں۔

    جواب دیں

  3. یہ جمہوری حکمران ہیں اور مزاج بادشاہی ہیں۔عوام میں مال بانٹ کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ان کی سوچ کی حد ہی اتنی ہے۔کہ کیسے اپنی بادشاہی قائم رکھی جائے۔عوام کا حال یہ ہے کہ بے نظیر سکیم کا ایک ہزار وصول کرنے کیلئے سفارش سے لیکر رشوت دینے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

    جواب دیں

  4. آپ نے درست تجزیہ کیا ہے
    ہمارا مزاج بھکاری بن چکا ہے

    جواب دیں

  5. میرے خیال میں یہ بہت اہم نکتہ ہے کہ حکمرانوں نے خود اپنی بھکاریوں والی عادت کو عوام تک منتقل کرنے کے لیئے مختلف منصوبے پیش کئے جو بظاہر رفاہی اور درحقیقت نوازنے کے لیئے ہیں۔ بات چاہے انکم سپورٹ پروگرام کی ہو یا وطن کارڈ کی، حکومت عوام کو بجائے ایک باعزت روزگار دینے کے، دفاتر کے چکر لگانے، سرکاری حکام کی سفارش حاصل کرنے کے لئے ان کی منتیں کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ سیلاب زدگان میں امداد کی تقسیم جس برے نظم و ضبط کے ساتھ ہوئی، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو مسائل کا ادراک ہے اور نہ وہ انہیں حل کرنے کے لیے کوشش کررہی ہے۔

    جواب دیں

  6. میرے ناقص خیال میں یہ پیپلز پارٹی کا مخصوص طرز حکمرانی ہے۔ جب بھی یہ پارٹی حکومت میں آتی ہے، امداد دینا، جیالوں کی بھرتی، قانون اور میرٹ کو کمتر سمجھنا اور اسکا مذاق اڑانا شروع کر دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے خیال میں یہی بھٹو ازم ہے اور ایسے ہی زیادہ سے زیادہ جیالے تیار کیے جا سکتے ہیں جو وقت آنے پر انکے لیے لڑنے مرنے پر تیار ہو جائیں گے۔ سنجیدہ حضرات عموما مسلم لیگ یا جماعت اسلامی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ میری ناقص رائے ہے۔
    پیپلز پارٹی کچھ پرانی سیاست کر رہی ہے اور بھٹو اور بی نظیر کے بعد شاید یہ سٹائل زیادہ چل نہیں پا رہا۔

    جواب دیں

  7. Posted by Muhammad Wajih Us Sama on اکتوبر 24, 2010 at 1:56 شام

  8. Posted by بنت حوا on نومبر 10, 2010 at 1:09 صبح

    کچھ چیزیں تو و ا قعی ھمارے مزاج کا حصھ بن چکی ھیں جسیے بھیک ما نگنا اورتو اور دولت کی لا لچ ھم انپی ما ؤں کو بھی بیچ دیتے ھیں ا للھ ھمارے حال پر ر حم کر ے آمین

    جواب دیں

  9. جناب بہت خوب۔۔۔۔ مکمل اتفاق کرتا ہوں آپ سے
    حکمران آئی ایم ایف اور یورپ کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور باقی عوام کو اپنے سامنے سامنے سجدہ ریز کراتے ہیں۔
    یہ بھی لکھتے تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس مسلے کا حل کیا ہے؟ اس مرض سے نبرس آزما ہو سکتے ہیں؟؟

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: