اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے۔۔


میں ایک جنگلی بھینسا ہوں ۔ میرے آباو اجداد افریقہ کے جنگلات میں ایک زمانے سے آباد ہیں۔ میرا جینا ان ہی میدانوں میں ہوا ہے اور مرنا  بھی  اس ہی جگہ ہو گا۔ ہمارے اس ریوڑ میں ہر طرح کی بھینس اور ہر طرح کا بھینسا موجود ہے، جوان بوڑھا بچہ ہر عمر کا۔ اگر طاقت کا موازنہ کسی اور جانور سے کریں تو میں گھاس کھانے والے جانوروں میں سب سے طاقتور ہوں۔  میرا وزن  اور میرے سینگ مجھے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ میرے نوکیلے سینگ ایک بہترین ہتھیار ہیں۔ جو عموما ہم ایک دوسرے پر ہی آزماتے ہیں۔ ہم بھینسوں میں بھی عجیب محبت ہوتی ہے۔ ہم سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھے ہم کو ایک بات سختی سے سمجھا گئے ہیں کے متحد رہنا! اگر بکھرےتو دشمن تمھیں تکہ بوٹی کر دیں گے۔ وہ دن اور آج کا دن ہم ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔
اس ریوڑ کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی گروہ بندیاں ہیں۔ بھینس اور بھینسے کی جوڑی کی صورت میں یا بھینس اور بچھڑے کی صورت میں، ہر جوڑا اپنے حال میں مست ہے۔ کچھ مست ہیں کچھ بدمست ہیں۔
ہمارے  اردگرد سر سبز گھاس ہے، جو ہمارے لیے خدا کا تحفہ ہے۔ خدا کی اس زمین پر ہم اکیلی مخلوق نہیں ، اس جنگل میں بھانت بھانت کے جانور ، چرند پرند اور حشرات موجود ہیں۔ ہم بھینسوں کے لئے باعث پریشانی جو جانور ہیں وہ ہیں شیر اور چیتا۔ گوشت خورجانوروں میں یہ سب سے چالاک اور پھرتیلے ہیں۔ ان سے بچنا آسان نہیں ہے۔ یہ شکار بھی کرتے ہیں تو اتنا تھکا دیتے ہیں ہم خود ہی اپنی گردن ان کے سامنے کر دیتے ہیں۔ جو شکار ہوتا ہے اس کو بھگا بھگا کر اپنے ریوڑ سے الگ کر دیتے ہیں۔ جو بھاگتے بھاگتے پیچھے رہ جاتا ہے وہی ان کا کھاجا بن جاتا ہے۔ یہ تواتحاد نا ہوا۔ ساتھ بھاگنا متحد ہونا نہیں ہے۔ ساتھ گھاس چرنے کو اتحاد نہیں کہتے۔ اللہ نے ہم کو اتنا طاقتور تو بنایا ہے کی اگر ہم اس ایک شیر کے سامنے مل کر کھڑے ہوجائیں تو ہم اس کو سبق سکھا سکتے  ہیں یا کم سے کم بھاگنے پر مجبور تو کر سکتے ہیں۔ کسی ایک بھینسے کا شکار کرنا تو آسان ہو سکتا ہے لیکن ایک وقت میں بہت سارے بھینسوں سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔
آج اس بات پر سب بھینسوں کو قائل بھی کر لیا ہے کہ اس بار شیر حملہ کرے گا تو کسی نے نہیں بھاگنا۔ سامنے کھڑے رہ کر مقابلہ کرنا ہے۔  دو تین دن سے کسی شیر نے حملہ نہیں کیا ہے ، امید ہے کہ آج یا کل کوئی نہ کوئی شیر یا چیتا ہمارے غول پر بری نظر ضرور ڈالے گا۔ تمام جنگی حربے تمام بھینسوں کو بتا دے گئے ہیں ۔ اس بار پتا چلے گا کے ہم کتنے ٹھیک ہیں اور کتنے غلط ۔
سو وہ دن  بھی آن پہنچا کہ ہم سب نے خطرے کی بو سونگھ لی ، سب کو پتا تھا کے شیر کہیں قریب میں ہی گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کسی بھی وقت شیر سامنے آسکتا ہے اور ہم کو بھاگنے کی بجائے طے کردہ حکمت عملی پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کے بہت سے نوجوان بھینسے جوش میں تھے اور کچھ کمزور دل ایک دوسرے کے پیچھے چھپ رہے تھے ۔ شائد ان کو اپنے اوپر یقین نہیں تھا ۔ اسہی اثنا میں بھگداڑ مچ گئی اور بہت سے بھینسوں نے اپنی جبلت سے مجبور ہو کر بھاگنا شروع کر دیا ۔ لیکن جلد ہی ان کو محسوس ہو گیا کہ بھاگنا موت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم سب ایک جگہ کھڑے تھے اور شیر ہم سے کچھ دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس سے پہلے کے شیر ہماری طرف پیش قدمی کرتا ہم سب نے اس کی جانب چلنا شروع کر دیا۔ شیر ایک لمحے کو سٹپٹایا اور اپنے آپ کو اتنے سارے بھینسوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر الٹے قدم واپس چلنے لگا۔ اتنی تعداد میں طاقتور بھینسوں کو ایک ساتھ اپنی جانب آتا دیکھ کر اس کے پاس اور کوئی چارا بھی نہیں تھا۔ ہم سب نے اس کو جاتا دیکھ کر اپنے قدم اور تیز کر دیے ۔ اب حالت یہ تھی کے شیر آگے تھا اور بھینسوں کی فوج اس کے پیچھے ۔ اپنی فتح پر مجھے جتنی خوشی آج تھی یقینا پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ آج مجھے متحد ہونے کا سہی مطلب پتا چلا۔ ہم سب خوشی سے سرپٹ بھاگ رہے تھے  کہ مجھے ٹھوکر لگی اور میں میدان میں گر گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو بستر سے نیچے گرا ہوا پایا۔ دوسرے ہی لمحے اس بات کا ادراک ہو گیا کے یہ سب ایک خواب تھا۔ بستر پر واپس آتے آتے مجھے قوم اور ہجوم کا فرق سمجھ آچکا تھا ۔ میں اس خواب کے تمام کرداروں کو اپنے ملک کے حالات پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور دوبارہ سونے سے پہلے میں شیر پر پریشانیوں ، مہنگائی ، شدت پسند ، ظلم، زیادتیوں اور خود غرض حکمرانوں  کا لیبل لگا چکا تھا اور بھینسوں کا وہ ہجوم جو ایک قوم میں تبدیل ہو گیا تھا ، پر پاکستانیوں کا نام لکھ چکا تھا۔  اس دعا کے ساتھ میں سکون  سے سو گیا کہ الله میرے اس خواب کوجلد حقیقت کر دے۔ آمین

Advertisements

8 responses to this post.

  1. بھائی بھینسا میں بھی آپ کا بھائی بند بھینسا ہوں۔
    ایک دشمن بھول گئے جو ہمیں حلال کر کے کھاتا ھے۔
    قصائی ہوتا ہے جی۔
    یہ نہ ہو کہ آنکھ کھلے اورآپ قصائی کی چھری کے نیچے۔

    جواب دیں

  2. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    یہ قوم بکھری ہوئي ہیں اس کواکٹھاکرناہی سب سےاہم کام ہے۔ اللہ تعالی سےدعاہےکہ ہم کومتحدکردے۔آمین ثم آمین تاکہ ہم بھی دشمن کی آنکھویں میں آنکھیں ڈال سکیں۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    جواب دیں

  3. بھائی لکھا تو اچھا ہے لیکن ایسا ہونے میں ابھی بہت وقت ہے، ابھی حالات اس نہج پر نہیں آئے کہ لوگ اپنی ذات سے اٹھ کر ایسا کچھ کریں۔

    جواب دیں

  4. کاش ایسا ہی ہو

    جواب دیں

  5. غالبا” خواب آپنے غور سے نہیں دیکھا ، ان بھینسوں میں سب سے پہلے ایک بھینسے نے ہمت پکڑی تھی -وہ لیڈر تھا – اسکے بعد سب بھینسوں نے قوم کی شکل اختیار کی تھی ، پاکستانی ہجوم بھی قوم بننے کے لئے بیتاب ہے ، صرف ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو مُلک اور قوم سے مخلص ہو – بہت شکریہ

    جواب دیں

  6. Posted by ABDULLAH on اکتوبر 8, 2010 at 5:33 صبح

    جی بس انتظار اس بات کا ہے کہ وہ لیڈر آسمان سے ٹپکے گا یا زمین پھاڑ کر نکلے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    جواب دیں

  7. Nice One Emran bhai… Very creative and thought provoking piece of writing…

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: