Archive for اکتوبر, 2010

بھیک دو

پتا نہیں وہ کیا کہ رہے تھے مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کے وہ سب مل کر "بھیک دو” "بھیک دو” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ورلڈ بنک کے دفتر کے باہر چالیس پچاس لوگ دو تین بینر اٹھائے نعرے لگا رہے تھے۔ شائد ان کے علاقے میں امداد نہیں پہنچی تھی جس پر وہ سب لوگ اسلام آباد میں واقع دفتر کے سامنے شور مچا رہے تھے. تھوڑا آگے جا کر مجھے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفتر نظر آیا تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کے ہم پاکستانی کس راستے پر چل پڑے ہیں ۔ پوری عوام کو بھیک مانگنے پر لگا دیا ہے۔ کہیں انکم سپورٹ ، کہیں وسیلہ روزگار ، کہیں بیت المال ، کہیں وطن کارڈ ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ہماری حکومتوں میں سیاسی و سماجی شعور کی کمی ہے یا صرف اپنوں کو نوازنے والی پالیسی ہے ۔ ہمارے ملک سے ابھی ایک سیلابی ریلا گزرا ہے ،بلاشبہ بے تحاشا تباہی اور املاک کو نقصان پہنچا لیکن خدارا!  اب عوام کو واپس کاموں پر لگاو، اکثر ابھی تک کمپس میں بیٹھے امداد کے متظر ہیں۔ کہتے ہیں سیلاب کے بعد زمینیں زرخیز ہوجاتی ہیں ؟ تو اس سال ہماری میگا فصلیں ہونی چاہیے ۔ حکومت نے ابھی تک اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ محنت کشوں کو محنت کش ہی رہنے دیں ، بھکاری نہ بنائیں۔ ان کو واپس آباد کرنے میں ان کو مدد کی جائے تو بہتر نہ ہوگا؟ اچھے بیج فراہم کے جایئں ، زرعی قرضے آسان شرائط پر مہیا کریں ، کچھ رہنمائی تو کریں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں!!! سب کے ہاتھوں میں کشکول دے دیا ہے ۔ زمینداروں کو کھیتی باڑی کے لئے لوگ نہیں مل رہے ، کون کام کرے ؟ سب کے گھروں میں امدادی اشیا کا ڈھیر لگا ہے۔ وہ ختم ہوگا تو کام شروع ہوگا۔

Advertisements

محبت آزمانے دو


 

 

 

 

 

ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو
مجھے خاموش رہنے دو
سنا ہے عشق سچا ہو تو خاموشی
لہو بن کر رگوں میں ناچ اٹھتی ہے

ذرا اس کی رگوں میں خاموشی کو جھوم جانے دو
ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو

اسے میں کیوں بتاوں میں نےاس کو کتنا چاہا ہے
بتایا جھوٹ جاتا ہے
کہ سچی بات کی خوشبو تو خود محسوس ہوتی ہے
میری باتیں
میری سوچیں
اسے خود جان جانے دو
ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو
اگر وہ عشق کے احساس کو پہچان نا پائے
مجھے بھی جان نا پائے
تو پھر ایسا کرو اے دل
خود گمنام ہوجاو
مگر اس بےخبر کو زندگی بھر مسکرانے دو!!!

اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے۔۔

میں ایک جنگلی بھینسا ہوں ۔ میرے آباو اجداد افریقہ کے جنگلات میں ایک زمانے سے آباد ہیں۔ میرا جینا ان ہی میدانوں میں ہوا ہے اور مرنا  بھی  اس ہی جگہ ہو گا۔ ہمارے اس ریوڑ میں ہر طرح کی بھینس اور ہر طرح کا بھینسا موجود ہے، جوان بوڑھا بچہ ہر عمر کا۔ اگر طاقت کا موازنہ کسی اور جانور سے کریں تو میں گھاس کھانے والے جانوروں میں سب سے طاقتور ہوں۔  میرا وزن  اور میرے سینگ مجھے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ میرے نوکیلے سینگ ایک بہترین ہتھیار ہیں۔ جو عموما ہم ایک دوسرے پر ہی آزماتے ہیں۔ ہم بھینسوں میں بھی عجیب محبت ہوتی ہے۔ ہم سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں اور ساتھ ہی رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بوڑھے ہم کو ایک بات سختی سے سمجھا گئے ہیں کے متحد رہنا! اگر بکھرےتو دشمن تمھیں تکہ بوٹی کر دیں گے۔ وہ دن اور آج کا دن ہم ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔
اس ریوڑ کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی گروہ بندیاں ہیں۔ بھینس اور بھینسے کی جوڑی کی صورت میں یا بھینس اور بچھڑے کی صورت میں، ہر جوڑا اپنے حال میں مست ہے۔ کچھ مست ہیں کچھ بدمست ہیں۔
ہمارے  اردگرد سر سبز گھاس ہے، جو ہمارے لیے خدا کا تحفہ ہے۔ خدا کی اس زمین پر ہم اکیلی مخلوق نہیں ، اس جنگل میں بھانت بھانت کے جانور ، چرند پرند اور حشرات موجود ہیں۔ ہم بھینسوں کے لئے باعث پریشانی جو جانور ہیں وہ ہیں شیر اور چیتا۔ گوشت خورجانوروں میں یہ سب سے چالاک اور پھرتیلے ہیں۔ ان سے بچنا آسان نہیں ہے۔ یہ شکار بھی کرتے ہیں تو اتنا تھکا دیتے ہیں ہم خود ہی اپنی گردن ان کے سامنے کر دیتے ہیں۔ جو شکار ہوتا ہے اس کو بھگا بھگا کر اپنے ریوڑ سے الگ کر دیتے ہیں۔ جو بھاگتے بھاگتے پیچھے رہ جاتا ہے وہی ان کا کھاجا بن جاتا ہے۔ یہ تواتحاد نا ہوا۔ ساتھ بھاگنا متحد ہونا نہیں ہے۔ ساتھ گھاس چرنے کو اتحاد نہیں کہتے۔ اللہ نے ہم کو اتنا طاقتور تو بنایا ہے کی اگر ہم اس ایک شیر کے سامنے مل کر کھڑے ہوجائیں تو ہم اس کو سبق سکھا سکتے  ہیں یا کم سے کم بھاگنے پر مجبور تو کر سکتے ہیں۔ کسی ایک بھینسے کا شکار کرنا تو آسان ہو سکتا ہے لیکن ایک وقت میں بہت سارے بھینسوں سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔
آج اس بات پر سب بھینسوں کو قائل بھی کر لیا ہے کہ اس بار شیر حملہ کرے گا تو کسی نے نہیں بھاگنا۔ سامنے کھڑے رہ کر مقابلہ کرنا ہے۔  دو تین دن سے کسی شیر نے حملہ نہیں کیا ہے ، امید ہے کہ آج یا کل کوئی نہ کوئی شیر یا چیتا ہمارے غول پر بری نظر ضرور ڈالے گا۔ تمام جنگی حربے تمام بھینسوں کو بتا دے گئے ہیں ۔ اس بار پتا چلے گا کے ہم کتنے ٹھیک ہیں اور کتنے غلط ۔
سو وہ دن  بھی آن پہنچا کہ ہم سب نے خطرے کی بو سونگھ لی ، سب کو پتا تھا کے شیر کہیں قریب میں ہی گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کسی بھی وقت شیر سامنے آسکتا ہے اور ہم کو بھاگنے کی بجائے طے کردہ حکمت عملی پر سختی سے عمل کرنا ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کے بہت سے نوجوان بھینسے جوش میں تھے اور کچھ کمزور دل ایک دوسرے کے پیچھے چھپ رہے تھے ۔ شائد ان کو اپنے اوپر یقین نہیں تھا ۔ اسہی اثنا میں بھگداڑ مچ گئی اور بہت سے بھینسوں نے اپنی جبلت سے مجبور ہو کر بھاگنا شروع کر دیا ۔ لیکن جلد ہی ان کو محسوس ہو گیا کہ بھاگنا موت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم سب ایک جگہ کھڑے تھے اور شیر ہم سے کچھ دور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اس سے پہلے کے شیر ہماری طرف پیش قدمی کرتا ہم سب نے اس کی جانب چلنا شروع کر دیا۔ شیر ایک لمحے کو سٹپٹایا اور اپنے آپ کو اتنے سارے بھینسوں کے سامنے اکیلا دیکھ کر الٹے قدم واپس چلنے لگا۔ اتنی تعداد میں طاقتور بھینسوں کو ایک ساتھ اپنی جانب آتا دیکھ کر اس کے پاس اور کوئی چارا بھی نہیں تھا۔ ہم سب نے اس کو جاتا دیکھ کر اپنے قدم اور تیز کر دیے ۔ اب حالت یہ تھی کے شیر آگے تھا اور بھینسوں کی فوج اس کے پیچھے ۔ اپنی فتح پر مجھے جتنی خوشی آج تھی یقینا پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ آج مجھے متحد ہونے کا سہی مطلب پتا چلا۔ ہم سب خوشی سے سرپٹ بھاگ رہے تھے  کہ مجھے ٹھوکر لگی اور میں میدان میں گر گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو بستر سے نیچے گرا ہوا پایا۔ دوسرے ہی لمحے اس بات کا ادراک ہو گیا کے یہ سب ایک خواب تھا۔ بستر پر واپس آتے آتے مجھے قوم اور ہجوم کا فرق سمجھ آچکا تھا ۔ میں اس خواب کے تمام کرداروں کو اپنے ملک کے حالات پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور دوبارہ سونے سے پہلے میں شیر پر پریشانیوں ، مہنگائی ، شدت پسند ، ظلم، زیادتیوں اور خود غرض حکمرانوں  کا لیبل لگا چکا تھا اور بھینسوں کا وہ ہجوم جو ایک قوم میں تبدیل ہو گیا تھا ، پر پاکستانیوں کا نام لکھ چکا تھا۔  اس دعا کے ساتھ میں سکون  سے سو گیا کہ الله میرے اس خواب کوجلد حقیقت کر دے۔ آمین