Archive for اگست, 2010

دستور

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سےجب کوئی بچہ گرے تو
سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑ آجائے
کوئی پل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری سانپ چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے
خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر
ہمارے شہر میں اب جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر

مشکلات کا سیلاب

کیا ہم واقعی بےحس ہو چکے ہیں؟ ٢٠٠٥ میں بھی تو ہم ہی تھے نہ ؟ اس وقت ہم کیسے ایک ہو گئے تھے ؟ اس وقت تو امدادی سامان کے ڈھیر لگ گئے تھے ۔ اتنا سامان ہو گیا تھا کے سبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔ آج کیا ہوا؟ اس کی وجہ یہ تو نہیں کہ میرے ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی مسئلا درپیش ہے۔ بیرونی طاقتوں نے ہم کو اتنا مصروف کر دیا ہے کہ اب ہم کو دائیں بائیں دیکھنے کی فرصت ہی نہیں رہی ۔ کچھ دن پہلے ایک ایسی ہی ویب سائٹ پر پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پڑھتے ہوئے مجھے جھرجھری آگئی۔ یہ ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔ ایک کے بعد ایک مسئلہ ، ہم پر ہی کچھ برا وقت ہے ۔ اس پر کسی نے اچھا کہا کہ

الله  ہم سے   ناراض ہے یہ قرآن نے  بتا  دیا
مرے وطن کی حالت نے بادلوں کو بھی رلا دیا
ہواؤں  کی  ناراضگی  کا تب  علم ہوا   ہم    کو
جب   کسی  پرواز  کو  اس نے زمیں پر گرا دیا
یوں   خون کو  بہتا دیکھ کر  دریا سے رہا  نہ گیا
اک آنسوؤں کا سیلاب گلیوں تک میں بہا دیا
یہ پاک     زمین     رو رو      کر یہ کہتی       ہے
ایسے گناہگار لوگوں کو یا رب کیوں مجھ پر بسا دیا

جس ملک کے حکمران اس کٹھن وقت میں اپنی ذاتی مصروفیات ترک نہ کر سکیں تو اس ملک کے عوام بھی یقینا ایک دوسرے کا دکھ درد نہیں بانٹ سکیں گے ۔ ایسے میں ان کو جوتے ہی پڑنے چاہے۔ جب پاکستان کے اپنی عوام کو ان پر یقین نہ ہو تو دوسرے ملک کے لوگ کس طرح ان کا ساتھ دیں گے۔ شائد جن سرکاری دفاتر میں ایک یا دو دن کی تنخواہ زبردستی کاٹی گئی ہے وہ ہی روپے سرکاری مد میں جمع ہوے ہوں گے ورنہ کس نے ان کو پیسے دیے ہوں گے؟ جن لوگوں نے واقعی مدد کرنی تھی وہ یا تو خود براہ راست مدد کر رہے ہیں یا پھر کسی ایسے ادارے کے ذریعے مدد کر رہے ہیں جس پر ان کو بھروسہ ہے ۔ الله تعالی بھی تو امتحان لیتا ہے ، کہاں دریا خشک تھے اب بھرے تو ایسے کے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ خدا کی قدرت! !
صحرا تو بوند کو بھی ترستا دکھائی دے
بادل  سمندروں پہ برستا   دکھائی دے
درخواست  صرف اتنی ہے کے ان سیلاب زدگان کی مدد ضرور کریں چاہے کسی ذریعے سے کریں ۔ ان کو ہماری ضرورت ہے

ماہ مبارک

ِِ

رمضان کریم مبارک

آپ سب کو میری جانب سے رمضان المبارک بہت بہت مبارک ہو