مرد


آج پھر ایک ایسی خبر میری نظر سے گزر گئی جس کو دیکھ کر میں کافی دیر سوچتا رہا کہ ہمارے ملک میں کب انصاف کا بول بالا ہوگا ؟ کب ہم میں تعلیم عام ہوگی اور جو تعلیم یافتہ ہیں ان پر کب تعلیم کا اثر ہوگا؟ خبر ایک لڑکی کی ہلاکت کی تھی جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ وہ لڑکی موت سے لڑتے لڑتے تھک گئی تھی۔ عموما ایسے واقعات کے پیچھے کوئی شادی کا مسئلہ ہوتا ہے یا پھرکوئی دیرینہ دشمنی۔ کسی عورت کے لئے شائد اس سے بڑی سزا نہ ہوگی کے اس کو باقی ماندہ زندگی بغیر چہرے کے گزارنی ہو۔ اس میں بھی الله کی مرضی تھی کہ وہ اس دنیا سے رخصت  ہو گئی مگر اس خبر میں بھی تیزاب پھینکنے والا آزاد گھوم رہا ہے۔
ہمارے ملک میں تیزاب سے متاثر ہونے والی خواتین کی کوئی صحیح تعداد تو میسر نہیں لیکن کچھ آزاد ذرائع کہتے ہیں کے ملک ہر سال تقریبا  ١٥٠ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ یہ خبر مجھے آج سے دس سال پہلے کے ایک واقعے کی یاد دلا گئی۔ یہ کہانی ایک لڑکی فاخرہ کی ہے۔ کراچی کے ایک علاقے نیپئر روڈ پر رہنے والی یہ لڑکی ایک ناچنے گانے والی لڑکی تھی- یہ فن اس کو اپنی ماں سے ملا تھا جو ہیروئن کا نشہ کرتی تھی ۔ جب تک فاخرہ ١٨ سال کی عمر کو پہنچی وہ ٣ سالہ نعمان کی ماں بن چکی تھی۔ ایک دن ایک پارٹی میں فاخرہ کی ملاقات ایک شخص سےہوتی ہے۔ یہ شخص جس کا نام  بلال تھا ، مالدار بھی تھا اور جوان بھی ۔ فاخرہ کے دل میں بھی اس کے لئے محبت جاگتی ہے اور اس طرح ان دونوں کی شادی ہوجاتی ہیں۔   فاخرہ شادی ہو کربلال کے خاندان کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ خاندان تھا کھر خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر کا خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر ستر کی دہائی میں واضح برتری سے انتخابات جیتے تھے اور پھر "شیر پنجاب” کہلائے تھے۔ خیر قصہ مختصر ، شادی کے کچھ عرصے بعد بلال اور فاخرہ کی اختلافات جنم لینے لگتے ہیں اور ایک دن بلال اور فاخرہ کی ہاتھا پائی ہوتی ہیں۔ بلال فاخرہ کے سر پر کچھ ڈالتا ہے جس کو فاخرہ یہ سمجھتی ہیں کے کچھ پلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ تیزاب تھا . فاخرہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کپڑے  اپنی کھال میں حل ہوتے نظر آتے ہیں ، آگ لگنے سے اس کا جسم اور چہرہ بری طرح مسخ ہو جاتا ہے ۔ تین ماہ ہسپتال میں گزرنے کے بعد فاخرہ واپس آتی ہے۔ اسی درمیان  بلال سے اس کی مصالحت ہو چکی ہوتی ہیں۔ بلال اس کو لے کر اپنے فارم ہا وس آجاتا ہے اور اپنے خاندان سے الگ رکھتا ہے۔  فاخرہ اب بھی باورچی خانہ سنبھالتی ہے۔   دونوں کے درمیان جھگڑے چلتے رہے اور پھر اس زندگی سے تنگ آکرآخرکار  فاخرہ بلال سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس وقت تک ڈاکٹروں نے فاخرہ کے جڑے ہوے ہونٹ الگ کر دیے تھے اور اب فاخرہ  بول بھی سکتی تھی ، چل پھر بھی لیتی تھی ۔
فاخرہ اپنے لئے اور اپنے بچے کےلئے جینا چاہتی تھی اور اس زندگی کو آگے گھسیٹنے کے لئے اس نے تہمینہ دررانی کو مدد کا پیغام بھیجا ۔ تہمینہ درانی "شیر پنجاب ” کی چوتھی  بیوی تھی – انہوں نے بلال کی پرورش میں بھی اچھا کردار ادا کیا تھا۔ بلال اب ہی ان کو "ممی” کہہ کر پکارتا تھا۔ تہمینہ دررانی کی لکھی ہوئی کتاب”مائی فیوڈل لارڈ”  بہت مقبول ہوئی ،جس کا دنیا کی ٣٦ زبانوں میں ترجمہ ہوا اور کافی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ اس کتاب میں تہمینہ نے اپنی اور کھر کی زندگی کے بہت حقائق بیان کیے ہیں۔
تہمینہ کی کوشش تھی کے وہ دوبارہ فاخرہ کے خاندان سے دور ہی رہے مگر فاخرہ کی حالت دیکھ کر وہ مدد پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔اب بلال کھر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا تہمینہ کا عزم تھا ، اس کے بعد فاخرہ کو اس کی شکل اور اعتماد واپس کرنا اس کا ارادہ تھا۔ فاخرہ کو بہتر صورت میں لانے میں بھی کم سے کم ٣ سال کا عرصہ درکار تھا جس میں اس کو ٣٠ آپریشنوں سے گزرنا تھا ۔ تہمینہ دررانی نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اٹلی میں فاخرہ کا علاج کروانے کا ارادہ کیا جس کو  میلان میں قائم ایک کمپنی سینٹ انجلییکا

کاسمیٹکس Sant’Angelica cosmetics  نے فنڈ کیا اور فاخرہ کے علاج کے سارے اخراجات برداشت کرنے کا ذمہ اٹھایا۔ اس کے بعد کا مرحلہ فاخرہ  کو اٹلی لے کر جانے کا تھا جس کے لیے اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہونا ضروری تھا ۔ ان حالات میں اس وقت کے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کی مدد سے فاخرہ کا پاسپورٹ جنرل پرویز مشرف کے دفتر سے حاصل کیا گیا ۔ کیونکہ کچھ حکومتی اداروں کا خیال تھا کہ فاخرہ کا پاکستان سے باہر جانا پاکستان کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔

آخری خبر آنے تک فاخرہ اٹلی میں ہی تھی اور اپنےعلاج میں مصروف تھی ۔ وہ وہاں اطالوی زبان بھی سیکھ رہی تھی تاکہ وہ وہاں رہ سکے۔ تہمینہ بتاتی ہیں کے فاخرہ جیسے ہی اس قابل ہوگی کے وطن لوٹ کر آسکے وہ آئےگی۔ میں نے اس کو اس قابل بنا دیا ہے کے وہ اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ سکتی ہے ۔  فاخرہ کا چہرہ عورتوں کے خلاف مردوں کے جرم کا آئینہ ہے ، یہ فاخرہ کے لیے شرم کی وجہ نہیں ہے کیونکے شرم کا مقام پاکستان میں موجود طاقتور مردوں کے لئے ہے جو کسی بھی وقت عورت کی زندگی کو داغدار کر سکتے ہیں .

Advertisements

8 responses to this post.

  1. "طاقتور مردوں” کو "بےغیرت و بزدل مردوں” سے بدل دینا چاہئے

    جواب دیں

  2. عورتوں پر ظلم تو جو ہورہا ہے وہ تو ہے ہی۔ دینا بھر میں پاکستانیوں کا جو منہ کالا ہو رہا ہے وہ بھی اپنی جگہ ہے۔ حد یہ ہے کہ معاشرہ بجائے یہ کہ مظلوم کا ساتھ دیے۔۔۔ایسے معاملات میں قومی غیرت کو لے آتا ہے۔ مختار مائی ، ڈاکٹر شازیہ ۔۔۔ کتنی ہی مثالیں ہیں کہ جس میں ریاست نے بھی اپنا منہ برابر کا کالا کیا۔

    اللہ ہی ہدایت دے!

    جواب دیں

  3. مرد کی مردانگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا روحانی دیوالیہ

    جواب دیں

  4. اس پور ے واقعے سے جھاں پا کستان کی ا تنی بد نا می ھوئی ویھییں لو گو ں نے اس سے بھت سستی شھرت بھی کما ئی۔ پتھ نھیں کھ مجر م کو سزا بھی ملی کھ نھیں۔اس بارے میں بھی لکھتے تو اس کی اھمیت اور بڑ ھ جا تی۔

    جواب دیں

  5. حقیقت چاہے کچھ بھی ہو ۔ انداز بیاں بہت اچھا ہے آپکا ۔

    جواب دیں

  6. آپ نے ایک سنجیدہ موضوع پر قلم اٹھایا ہے، کھر جی سے یاد آیا کہ انٹرویوں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں بے سہارا لڑکیوں کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوں. بہرحال عدالتی کاروائی کا کیا ہوا؟

    جواب دیں

  7. Posted by Taimoor on جون 22, 2011 at 12:59 شام

    why we are so emotional for the girlz

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: