Archive for جولائی 9th, 2010

انسانیت

شائد آج جون کا گرم ترین دن تھا۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آج دھوپ کی تمازت کچھ زیادہ ہی ہے۔ راستے میں دھوپ سے جھلستا ہوا دفتر پہنچا تو کام کا ایک امبار میرا منتظر تھا۔ جیسے تیسے کام کر کے شام کو دفتر سے نکلا تو اندازہ ہوا کے موسم یکسر بدل چکا ہے۔ آسمان پر بادل بھی ہیں اور ہوا میں بھی تھوڑی ٹھنڈک ہے ایسے میں سوچا چلو تھوڑا گھومتے ہوئے ہی گھر جاتا ہوں- ملا کی دوڑ مسجد تک اور میری جناح سپر تک، سو جا پہنچا- لیمن سوڈے کا آرڈر دیا اور صحن میں لگی کرسیوں میں سے ایک پر جا بیٹھا۔ لگ رہا تھا موسم کا مزہ لینے ساری دنیا ہی گھروں سے باہر آ گئی ہے ۔ میرے آس پاس بھی کافی لوگ تھے اور بلکل سامنے کھڑی گاڑیوں میں بھی کچھ لوگ بیٹھے نظر آرہے تھے۔ میرے قریب ہی دو بچے کارٹونوں کی کتابیں لئے آپس میں اٹکیلیاں کر رہے تھے، اور کیوں نہ کرتے موسم پر ان کا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا میرا یا کسی اور کا تھا۔ اکیلا ہونے کے ناتے اردگرد کے لوگوں کو دیکھنے کے علاوہ میرا کچھ اور کام بھی نہ تھا کہ جب تک سوڈا نہ آجاتا۔ میری توجہ بار بار انہی دو بچوں پر جا ٹہرتی ،  جو کارٹونوں کی کتابیں بیچنے کے لئے گھروں سے نکلے تھے۔ ان دونوں کی عمریں بھی ان ہی کتابوں کو پڑھنے کی ہوں گی۔ میں سوچ ہی رہا تھا کے یہ بچے میرے پاس کتابیں بیچنے کیوں نہیں آیے۔اتنے میں پاس ہی ایک چمکدار خوبصورت سفید گاڑی آکر رکی۔ سامنے والی نشست پر ایک صاحب سفید  کلف شدہ قمیض شلوار میں ملبوس براجمان تھے ، ساتھ میں یقینا ان کی بیوی ہوگی۔ ابھی دھیان ان کی گاڑی سے ہٹا نہیں تھا کے دونوں بچے میرے سامنے سے بھاگتے ہوے گاڑی کی جانب لپکے۔ مجھے میرے سوال کاجواب مل گیا تھا کہ یہ بچے میرے پاس کیوں نہیں آیے۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر تین  بچے بھی تھے۔ یہی ان کے ممکنہ خریدار ہو سکتے تھے ،  کتابیں بیچنے والے دونوں بچے گاڑی کے شیشے سے کتابیں گاڑی میں بیٹھے ہوے بچوں کو دیکھا رہے تھے۔ شاید کارٹون سب بچوں کی کمزوری ہوتے ہیں سو وہ بھی توجہ سے ان کی جانب دیکھ رہے تھے- گاڑی چلانے والے ابّو کو شاید کتابوں سے کوئی  شغف نہیں تھا اور نہ ہی مجھے لگ رہا تھا کے وہ اپنے بچوں کے لئے کتابیں خریدیں گے۔ اتنے میں میرا لیمن سوڈا آگیا اور میرا دھیان ان بچوں سے نکل کر سوڈے میں چلا گیا۔ سوڈا بنا بھی میری مرضی کا تھا تو اور بھی مزہ آرہا تھا۔ اسہی اثنا میں مجھے زور سے بولنے کی آوازیں آئیں، جو دیکھا تو کتابیں بیچنے والا لڑکا زمین پر گرا ہوا ہے اور وہ سفید چمکدار گاڑی والا شخص بچے کو ایک تھپڑ رسید کرنے کے بعد واپس گاڑی میں بیٹھ رہا تھے۔ ایک لمحے کو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا ، وہ بچہ روتا ہوا اٹھ رہا تھا کہ سامنے سے ہی ایک ویٹر اس گاڑی والے سے دریافت کرنے لگا کہ کیا ماجرا ہوا۔ میرا تجسس بڑھا تو میں بھی قریب ہو گیا۔ اک لمحےمیں مجھے وہ سفید کلف میں ملبوس شخص اتنا گندا لگنے لگا کےدل چاہا کہ اس کا گریبان پکڑ لوں۔ اس بچے پر ہاتھ صرف اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ اس نے صاف شیشے گندے کر دیے تھے ۔ وہ دونوں بچے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نجانے کس طرف نکل گئے اور میں سوچتا ہی رہ گیا کے ایسے بھی لوگ ہیں جو انسان کو انسان نہیں سمجھتے ۔ ایسے لوگ اپنی نئی نسل کو کیا تربیت دیں گے ؟ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کا مثبت  فعال پرزہ  بن سکتےہیں؟  یہ تو شکر ہے کے ایسے لوگ کم ہیں ورنہ ہمارا معاشرہ تو چاروں شانے چت زمین پر ڈھیر نظر آئے ۔ مجھے ایسے لوگوں سے ہمدردی بھی ہے کے یقینا ان کے ساتھ غریبوں کی بد دعائیں چلتی ہوں گی. بد نصیب !!!!!

پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں ناں رکھ لیا قاضی

ہتھ   وچ پھڑ کے تلوار توں   ناں رکھ  لیا  غازی

مکے   مدینے  گھوم  آیاں تے   ناں رکھ  لیا  حاجی

بلھے شاہ حاصل کی کیتا، جے توں یار نا رکھیا   راضی