Archive for جولائی, 2010

مرد

آج پھر ایک ایسی خبر میری نظر سے گزر گئی جس کو دیکھ کر میں کافی دیر سوچتا رہا کہ ہمارے ملک میں کب انصاف کا بول بالا ہوگا ؟ کب ہم میں تعلیم عام ہوگی اور جو تعلیم یافتہ ہیں ان پر کب تعلیم کا اثر ہوگا؟ خبر ایک لڑکی کی ہلاکت کی تھی جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ وہ لڑکی موت سے لڑتے لڑتے تھک گئی تھی۔ عموما ایسے واقعات کے پیچھے کوئی شادی کا مسئلہ ہوتا ہے یا پھرکوئی دیرینہ دشمنی۔ کسی عورت کے لئے شائد اس سے بڑی سزا نہ ہوگی کے اس کو باقی ماندہ زندگی بغیر چہرے کے گزارنی ہو۔ اس میں بھی الله کی مرضی تھی کہ وہ اس دنیا سے رخصت  ہو گئی مگر اس خبر میں بھی تیزاب پھینکنے والا آزاد گھوم رہا ہے۔
ہمارے ملک میں تیزاب سے متاثر ہونے والی خواتین کی کوئی صحیح تعداد تو میسر نہیں لیکن کچھ آزاد ذرائع کہتے ہیں کے ملک ہر سال تقریبا  ١٥٠ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ یہ خبر مجھے آج سے دس سال پہلے کے ایک واقعے کی یاد دلا گئی۔ یہ کہانی ایک لڑکی فاخرہ کی ہے۔ کراچی کے ایک علاقے نیپئر روڈ پر رہنے والی یہ لڑکی ایک ناچنے گانے والی لڑکی تھی- یہ فن اس کو اپنی ماں سے ملا تھا جو ہیروئن کا نشہ کرتی تھی ۔ جب تک فاخرہ ١٨ سال کی عمر کو پہنچی وہ ٣ سالہ نعمان کی ماں بن چکی تھی۔ ایک دن ایک پارٹی میں فاخرہ کی ملاقات ایک شخص سےہوتی ہے۔ یہ شخص جس کا نام  بلال تھا ، مالدار بھی تھا اور جوان بھی ۔ فاخرہ کے دل میں بھی اس کے لئے محبت جاگتی ہے اور اس طرح ان دونوں کی شادی ہوجاتی ہیں۔   فاخرہ شادی ہو کربلال کے خاندان کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ خاندان تھا کھر خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر کا خاندان۔ غلام مصطفیٰ کھر ستر کی دہائی میں واضح برتری سے انتخابات جیتے تھے اور پھر "شیر پنجاب” کہلائے تھے۔ خیر قصہ مختصر ، شادی کے کچھ عرصے بعد بلال اور فاخرہ کی اختلافات جنم لینے لگتے ہیں اور ایک دن بلال اور فاخرہ کی ہاتھا پائی ہوتی ہیں۔ بلال فاخرہ کے سر پر کچھ ڈالتا ہے جس کو فاخرہ یہ سمجھتی ہیں کے کچھ پلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ تیزاب تھا . فاخرہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کپڑے  اپنی کھال میں حل ہوتے نظر آتے ہیں ، آگ لگنے سے اس کا جسم اور چہرہ بری طرح مسخ ہو جاتا ہے ۔ تین ماہ ہسپتال میں گزرنے کے بعد فاخرہ واپس آتی ہے۔ اسی درمیان  بلال سے اس کی مصالحت ہو چکی ہوتی ہیں۔ بلال اس کو لے کر اپنے فارم ہا وس آجاتا ہے اور اپنے خاندان سے الگ رکھتا ہے۔  فاخرہ اب بھی باورچی خانہ سنبھالتی ہے۔   دونوں کے درمیان جھگڑے چلتے رہے اور پھر اس زندگی سے تنگ آکرآخرکار  فاخرہ بلال سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس وقت تک ڈاکٹروں نے فاخرہ کے جڑے ہوے ہونٹ الگ کر دیے تھے اور اب فاخرہ  بول بھی سکتی تھی ، چل پھر بھی لیتی تھی ۔
فاخرہ اپنے لئے اور اپنے بچے کےلئے جینا چاہتی تھی اور اس زندگی کو آگے گھسیٹنے کے لئے اس نے تہمینہ دررانی کو مدد کا پیغام بھیجا ۔ تہمینہ درانی "شیر پنجاب ” کی چوتھی  بیوی تھی – انہوں نے بلال کی پرورش میں بھی اچھا کردار ادا کیا تھا۔ بلال اب ہی ان کو "ممی” کہہ کر پکارتا تھا۔ تہمینہ دررانی کی لکھی ہوئی کتاب”مائی فیوڈل لارڈ”  بہت مقبول ہوئی ،جس کا دنیا کی ٣٦ زبانوں میں ترجمہ ہوا اور کافی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ اس کتاب میں تہمینہ نے اپنی اور کھر کی زندگی کے بہت حقائق بیان کیے ہیں۔
تہمینہ کی کوشش تھی کے وہ دوبارہ فاخرہ کے خاندان سے دور ہی رہے مگر فاخرہ کی حالت دیکھ کر وہ مدد پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔اب بلال کھر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا تہمینہ کا عزم تھا ، اس کے بعد فاخرہ کو اس کی شکل اور اعتماد واپس کرنا اس کا ارادہ تھا۔ فاخرہ کو بہتر صورت میں لانے میں بھی کم سے کم ٣ سال کا عرصہ درکار تھا جس میں اس کو ٣٠ آپریشنوں سے گزرنا تھا ۔ تہمینہ دررانی نے اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اٹلی میں فاخرہ کا علاج کروانے کا ارادہ کیا جس کو  میلان میں قائم ایک کمپنی سینٹ انجلییکا

کاسمیٹکس Sant’Angelica cosmetics  نے فنڈ کیا اور فاخرہ کے علاج کے سارے اخراجات برداشت کرنے کا ذمہ اٹھایا۔ اس کے بعد کا مرحلہ فاخرہ  کو اٹلی لے کر جانے کا تھا جس کے لیے اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہونا ضروری تھا ۔ ان حالات میں اس وقت کے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کی مدد سے فاخرہ کا پاسپورٹ جنرل پرویز مشرف کے دفتر سے حاصل کیا گیا ۔ کیونکہ کچھ حکومتی اداروں کا خیال تھا کہ فاخرہ کا پاکستان سے باہر جانا پاکستان کی بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔

آخری خبر آنے تک فاخرہ اٹلی میں ہی تھی اور اپنےعلاج میں مصروف تھی ۔ وہ وہاں اطالوی زبان بھی سیکھ رہی تھی تاکہ وہ وہاں رہ سکے۔ تہمینہ بتاتی ہیں کے فاخرہ جیسے ہی اس قابل ہوگی کے وطن لوٹ کر آسکے وہ آئےگی۔ میں نے اس کو اس قابل بنا دیا ہے کے وہ اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ سکتی ہے ۔  فاخرہ کا چہرہ عورتوں کے خلاف مردوں کے جرم کا آئینہ ہے ، یہ فاخرہ کے لیے شرم کی وجہ نہیں ہے کیونکے شرم کا مقام پاکستان میں موجود طاقتور مردوں کے لئے ہے جو کسی بھی وقت عورت کی زندگی کو داغدار کر سکتے ہیں .

انسانیت

شائد آج جون کا گرم ترین دن تھا۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آج دھوپ کی تمازت کچھ زیادہ ہی ہے۔ راستے میں دھوپ سے جھلستا ہوا دفتر پہنچا تو کام کا ایک امبار میرا منتظر تھا۔ جیسے تیسے کام کر کے شام کو دفتر سے نکلا تو اندازہ ہوا کے موسم یکسر بدل چکا ہے۔ آسمان پر بادل بھی ہیں اور ہوا میں بھی تھوڑی ٹھنڈک ہے ایسے میں سوچا چلو تھوڑا گھومتے ہوئے ہی گھر جاتا ہوں- ملا کی دوڑ مسجد تک اور میری جناح سپر تک، سو جا پہنچا- لیمن سوڈے کا آرڈر دیا اور صحن میں لگی کرسیوں میں سے ایک پر جا بیٹھا۔ لگ رہا تھا موسم کا مزہ لینے ساری دنیا ہی گھروں سے باہر آ گئی ہے ۔ میرے آس پاس بھی کافی لوگ تھے اور بلکل سامنے کھڑی گاڑیوں میں بھی کچھ لوگ بیٹھے نظر آرہے تھے۔ میرے قریب ہی دو بچے کارٹونوں کی کتابیں لئے آپس میں اٹکیلیاں کر رہے تھے، اور کیوں نہ کرتے موسم پر ان کا بھی اتنا ہی حق تھا جتنا میرا یا کسی اور کا تھا۔ اکیلا ہونے کے ناتے اردگرد کے لوگوں کو دیکھنے کے علاوہ میرا کچھ اور کام بھی نہ تھا کہ جب تک سوڈا نہ آجاتا۔ میری توجہ بار بار انہی دو بچوں پر جا ٹہرتی ،  جو کارٹونوں کی کتابیں بیچنے کے لئے گھروں سے نکلے تھے۔ ان دونوں کی عمریں بھی ان ہی کتابوں کو پڑھنے کی ہوں گی۔ میں سوچ ہی رہا تھا کے یہ بچے میرے پاس کتابیں بیچنے کیوں نہیں آیے۔اتنے میں پاس ہی ایک چمکدار خوبصورت سفید گاڑی آکر رکی۔ سامنے والی نشست پر ایک صاحب سفید  کلف شدہ قمیض شلوار میں ملبوس براجمان تھے ، ساتھ میں یقینا ان کی بیوی ہوگی۔ ابھی دھیان ان کی گاڑی سے ہٹا نہیں تھا کے دونوں بچے میرے سامنے سے بھاگتے ہوے گاڑی کی جانب لپکے۔ مجھے میرے سوال کاجواب مل گیا تھا کہ یہ بچے میرے پاس کیوں نہیں آیے۔ گاڑی کی پچھلی نشست پر تین  بچے بھی تھے۔ یہی ان کے ممکنہ خریدار ہو سکتے تھے ،  کتابیں بیچنے والے دونوں بچے گاڑی کے شیشے سے کتابیں گاڑی میں بیٹھے ہوے بچوں کو دیکھا رہے تھے۔ شاید کارٹون سب بچوں کی کمزوری ہوتے ہیں سو وہ بھی توجہ سے ان کی جانب دیکھ رہے تھے- گاڑی چلانے والے ابّو کو شاید کتابوں سے کوئی  شغف نہیں تھا اور نہ ہی مجھے لگ رہا تھا کے وہ اپنے بچوں کے لئے کتابیں خریدیں گے۔ اتنے میں میرا لیمن سوڈا آگیا اور میرا دھیان ان بچوں سے نکل کر سوڈے میں چلا گیا۔ سوڈا بنا بھی میری مرضی کا تھا تو اور بھی مزہ آرہا تھا۔ اسہی اثنا میں مجھے زور سے بولنے کی آوازیں آئیں، جو دیکھا تو کتابیں بیچنے والا لڑکا زمین پر گرا ہوا ہے اور وہ سفید چمکدار گاڑی والا شخص بچے کو ایک تھپڑ رسید کرنے کے بعد واپس گاڑی میں بیٹھ رہا تھے۔ ایک لمحے کو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہوا ، وہ بچہ روتا ہوا اٹھ رہا تھا کہ سامنے سے ہی ایک ویٹر اس گاڑی والے سے دریافت کرنے لگا کہ کیا ماجرا ہوا۔ میرا تجسس بڑھا تو میں بھی قریب ہو گیا۔ اک لمحےمیں مجھے وہ سفید کلف میں ملبوس شخص اتنا گندا لگنے لگا کےدل چاہا کہ اس کا گریبان پکڑ لوں۔ اس بچے پر ہاتھ صرف اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ اس نے صاف شیشے گندے کر دیے تھے ۔ وہ دونوں بچے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر نجانے کس طرف نکل گئے اور میں سوچتا ہی رہ گیا کے ایسے بھی لوگ ہیں جو انسان کو انسان نہیں سمجھتے ۔ ایسے لوگ اپنی نئی نسل کو کیا تربیت دیں گے ؟ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کا مثبت  فعال پرزہ  بن سکتےہیں؟  یہ تو شکر ہے کے ایسے لوگ کم ہیں ورنہ ہمارا معاشرہ تو چاروں شانے چت زمین پر ڈھیر نظر آئے ۔ مجھے ایسے لوگوں سے ہمدردی بھی ہے کے یقینا ان کے ساتھ غریبوں کی بد دعائیں چلتی ہوں گی. بد نصیب !!!!!

پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں ناں رکھ لیا قاضی

ہتھ   وچ پھڑ کے تلوار توں   ناں رکھ  لیا  غازی

مکے   مدینے  گھوم  آیاں تے   ناں رکھ  لیا  حاجی

بلھے شاہ حاصل کی کیتا، جے توں یار نا رکھیا   راضی