جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا


پچھلے کچھ دن سے زیروپوائنٹ کے پل کے نیچے کا راستہ بند تھا- تکلیف تو بہت ہویئ لیکن مجبوری تھی کیا کرتے- آج رات آفس سے واپس جاتے وقت ریڈیو پر سنا کہ اسلام آباد سے پنڈی جانے والاراستہ ٹریفک کے لئیے کھول دیا گیا ہے تو ناجانے کیوں گاڑی کا اسٹیرنگ موڑ دیا۔ مجھے کیا دیکھنے کی کھوج تھی ،معلوم نہیں۔ مجھے نظر آرہا تھا کی زیرو پونٹ کے پل کے اس پاس گرد کی بادل پھیلے ہوے ہیں۔بڑے بڑےٹرک مٹی اٹھائے ادھر سے ادھر جا رہے ہیں، گرد کے بادلوں میں گھسا تو نظر آیا کے یہ گرد تو زیرو پوائنٹ کے پل کی ہی ہے ۔ اس پل کو میں بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ بارہا اس کے نیچے سے گزرا ہوں گا ،بیسیوں بار اوپر سے ۔ آج اس کو اپنی جگہ پر نہ پا کر مجھے دکھ ہوا۔ شائد یہ نیا اسلام آباد ہے ۔ آج سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہ پرانا اسلام آباد کہیں کھو سا گیا ہے ۔ وہ سکون، وہ امن، وہ سبزہ ،وہ لوگ ، کچھ بھی تو پرانا نہیں رہا ، سب بدل گیا ۔شائد ہم ترقی کر رہے ہیں۔ یا شائد ہم سمجھ رہے ہیں کے ہم ترقی کر رہے ہیں .

Advertisements

10 responses to this post.

  1. زيرو پوائنٹ زيرو پوائنٹ زيرو پوائنٹ آبپارے آبپارے کرتی ويگنيں ياد کروا ديں آپ نے

    جواب دیں

  2. تو وہ پُل جو زيرو پوائنٹ کا امتياز تھا گيا ؟؟؟
    جانتے ہيں اس کی وجہ ؟ پرويز مشرف جو دو کروڑ روپيہ سے شکر پڑياں پر اپنا مقبرہ بنوا گيا ہے اس کی وجہ سے يہ انٹرسيکشن شِفٹ کرنا پڑا اور 245 ملين روپيہ زيادہ خرچ بھی آيا

    جواب دیں

  3. بلاگ پر پہلی حاضری قبول کریں
    جہاں اتنا کچھ برباد ہوا
    وہاں یہ پل بھی سہی۔۔۔

    جواب دیں

  4. Posted by emran on جون 26, 2010 at 3:52 شام

    شکریہ جعفر ! امید ہے یہ تعلق قائم رہے گا۔

    جواب دیں

  5. ہماری طرف تشریف آوری کا شکریہ اور حاضری قبول فرمائیں۔ ترقی یا نہ دیکھائی دینے والی تنزلی دونوں میں سے کوئی ایک ہی ھے۔

    جواب دیں

  6. Posted by Saad on جون 28, 2010 at 1:22 شام

    ترقی؟ آپ مذاق تو نہیں کر رہے؟

    جواب دیں

  7. Posted by قمر رضا on جون 30, 2010 at 12:02 صبح

    نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
    تو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروں

    جواب دیں

  8. السلام علیکم
    پہلی دفعہ آپکے بلاگ پر آنا ہوا۔۔۔۔ انشا اللہ آنا جانا لگا رہے گا اب۔۔

    جواب دیں

  9. مری وغیرہ سے واپسی پر اسلام آباد جو کچھ دیر رکنا ملتا ہے اس میں مجھے بھی یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ یہ شہر اب ہر گز پہلے سا نہیں رہا۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: