Archive for جون, 2010

وہی فارورڈڈ میل؟

کچھ دن پہلے کسی کی بلاگ پر فارورڈڈ میلز کی بارے میں پڑھ رہا تھا. ایسی میل یقیناً سب کو ہی آتی ہوں گی۔ ان میں کبھی مفت لیپ ٹاپ ملنے کا جھانسا ہوتا ہے تو کبھی موبائل فون ملنے کا، یا کبھی کسی میل کو فارورڈ کر نے سے کوئی کمپنی کسی مریض کو پیسے دیتی ہے۔ اس قسم کی جعلی میلز کو میں نے کبھی لفٹ نہیں کروائی، ہاں البتہ کچھ میلز ایک دم دل کو چھو جاتی ہیں۔ میں جس میل کا ذکر کرنے جا رہا ہوں بہت ممکن ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو مگر پھر بھی ۔۔۔۔۔ وہ میل کچھ اس طرح ہے۔
میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔۔
آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔
٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور
میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔
٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا
٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔
٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری ی حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔
٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیااور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا
٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا
۔
٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے گیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

آج کل کی اس دور میں مشکلات اتنی ہو گیں ہیں کے اکثر انسان کا ضبط جواب دے جاتا ہے . بہت کچھ غیر ضروری بول جاتا ہے جو اس کو یقننا نہیں کہنا چاھیے . متذکرہ میل کو پڑھنے کے بعد مجھے بھی احساس ہوا کے مجھ سے بھی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں . خیر قصّہ مختصر ……. یہ تحریر صرف اس وجہ سے لکھ دی کہ شائد کوئی اور بھی پڑھے اور بہتری کی جانب آئے-
جن کے پاس ماں ہے۔۔۔اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں ،اس سے پہلے کہ یہ نعمت ان سے بچھڑ جائے۔
اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا

جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھا

پچھلے کچھ دن سے زیروپوائنٹ کے پل کے نیچے کا راستہ بند تھا- تکلیف تو بہت ہویئ لیکن مجبوری تھی کیا کرتے- آج رات آفس سے واپس جاتے وقت ریڈیو پر سنا کہ اسلام آباد سے پنڈی جانے والاراستہ ٹریفک کے لئیے کھول دیا گیا ہے تو ناجانے کیوں گاڑی کا اسٹیرنگ موڑ دیا۔ مجھے کیا دیکھنے کی کھوج تھی ،معلوم نہیں۔ مجھے نظر آرہا تھا کی زیرو پونٹ کے پل کے اس پاس گرد کی بادل پھیلے ہوے ہیں۔بڑے بڑےٹرک مٹی اٹھائے ادھر سے ادھر جا رہے ہیں، گرد کے بادلوں میں گھسا تو نظر آیا کے یہ گرد تو زیرو پوائنٹ کے پل کی ہی ہے ۔ اس پل کو میں بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ بارہا اس کے نیچے سے گزرا ہوں گا ،بیسیوں بار اوپر سے ۔ آج اس کو اپنی جگہ پر نہ پا کر مجھے دکھ ہوا۔ شائد یہ نیا اسلام آباد ہے ۔ آج سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہ پرانا اسلام آباد کہیں کھو سا گیا ہے ۔ وہ سکون، وہ امن، وہ سبزہ ،وہ لوگ ، کچھ بھی تو پرانا نہیں رہا ، سب بدل گیا ۔شائد ہم ترقی کر رہے ہیں۔ یا شائد ہم سمجھ رہے ہیں کے ہم ترقی کر رہے ہیں .

دير آيد درست آيد!!

زندگي ميں پہلے مصروفيت کم تھی جو فيس بک نے اپنی جگہ بنا لی؟ جناب !! پان سگريٹ تمباکو جيسي نشہ آور اشيا کا بھی کيا نشہ ہوگاجو فيس بک کا ھے۔ کسي نےاپنا وقت ضائع کرنا ھو تو اس سے بہتر جگہ نا ملے گي? يہاں آپ کو کھيتي باڑي کے مواقع بھي مليں گے اور مچھلياں پالنے کے بھی۔ آپ فيس بک پر گينگسٹر بھی بن سکتے ھيں جوئے کے اڈے چلا سکتے ھيں۔ گاڑيوں کي ريس کروا ليں۔ اپنے پہلوانوں سے کشتي کرواليں۔ يہاں سب ممکن ہے۔ ياد رھے ان سب کاموں ميں آپ پيسہ خرچ تو کر سکتے ھيں کما نہيں سکتے? گزشتہ ماہ فيس بک اخبارات کي سرخيوں ميں رہا، وجہ سب کو پتہ ہے! دو دن کا بائکاٹ کيا واپس آگئے!!! بس! شايد ھم اتنے ھی مسلمان ھيں۔
آپ کہيں بھی ہوں . کہيں بھی جا رہے ہوں اپنے دوستوں کو فيس بک پر مطلع کر ديتے ہيں۔ اس سے دوستوں کو تو فائدہ ہوا ليکن دشمنوں کو بھی ہوا . ڈاکے پڑنے لگے گھروں ميں۔ اب اس کا کيا کيجيے۔ حضرات نے اپنےسا رے خاندان کي تصاوير فيس بک کي زينت بنا ڈالي ہيں۔ جس کو دنيا بھی ديکھتي ہے( يقين کيجيے اس ميں فيس بک کا کوئي قصور نہيں ہے)
ميري دانست ميں فيس بک صرف وقت کا زياع ہے۔اس بات کا احساس مجھے کافي وقت برباد کرنے کے بعد ہوا – ليکن دير آيد درست آيد!
اپني توجہ فيس بک سے ہٹانے کے ليے بلاگس کي جانب آگيا ، اب ديکھيے اس کے نقصانات مجھ پر کب عياں ہوتے ہيں۔ .

سزا

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں زہریلی گیس کے اخراج سے ہزاروں افراد کی ہلاکت کے الزام میں آٹھ ملزمان کو دو دو برس کی جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔یہ تھی وہ شہ سرخی جس سے مجھے احساس ہوا کہ غریب چاہے پاکستان کا ہو یا دنیا کے کسی ملک کا، اس کی کہیں شنوائی نہیں ہے۔ ان ہزاروں لوگوں کے دکھوں پر کون مرہم رکھے گا جو اس حادثے کی وجہ سے معذوری کا شکار ہو گئے؟