ہمارے ملک میں ایک دم ہی سب چیزیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا گیس! کیا بجلی! کیا چینی اور کیا اخلاقیات۔ کل سی این جی کے لئے گاڑیوں کی لمبی لائن رات 2 بجے تک نظر آتی رہی۔ شاید اس کے بعد بھی گاڑیاں لائن میں لگتی رہی ہوں گی۔ کیا معلوم؟ پھر اسی پٹرول پمپ کے ساتھ مجھے کرسمس ٹری بھی روشن نظر آیا تو یادآیا کے مسیحی برادری کل اپنی عید منائے گی۔ کیا ھم خودغرض ہو گئے ہیں؟ یا ھمارا احساس مر گیا ہے؟ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہو سکتے تو کسی کی خوشی میں رکاوٹ بھی نہیں بننا چاہئے۔ اگر سی این جی کی بندش ایک دن کے لئے نا کی جاتی تو کسی کو مسئلہ نا ہوتا، لیکن یہ ضرور ہوتا کے بہت سے بچے اپنی عید کو اپنے بڑوں کے ساتھ گھوم پھر کر اچھی طرح منا لیتے۔ مسلمانوں کی چاند رات پر ساری لوڈشیڈنگ موخر کر دی جا سکتی ہیں تو اس دن کیا مسئلہ تھا؟ دفتروں میں سب کو یہ فکر تو تھی کہ 27 دسمبر کی چھٹی ہے یا نہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ لانگ ویک اینڈ منا پائیں گے یا نہیں مگر کسی حکمران کو اس بات کا خیال نا آیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کے دن کو خاص بنانے کے لئے بہت محنت درکار نہیں ہے، صرف ایک دن سی این جی کھولنی ہے جو عام حالات میں بھی ہفتے کے 5 دن ملتی ہے۔ کاش ہم اپنے اردگرد رہنے والوں کا بھی اسہی طرح خیال رکھیں جیسا ہم کو بحیثیت مسلمان رکھنا چاہیے!
25 Dec





Posted by Tariq on December 25, 2010 at 8:39 AM
Let me correct you.. This is not eid for christian,,, this is christmass the birth day of Jesus Christ and he is masaiah according to Quran Surah Maryuim.
Posted by کاشف نصیر on December 25, 2010 at 9:43 AM
ایک عدد چھٹی مل جاتی ہے، اوپر سے ہر چیز کی اجازت اور کیا چاہئے ؟؟؟
پاکستان میں اقلیتیوں کا جتنا خیال رکھا جاتا ہے مغرب کے کسی ملک میں نہیں رکھنا جاتا پھر بھی نام نہاد روشن خیال بلا وجہ کی چوں چوں کرتے ہیں۔ جرمنی میں پچھلے سال عید کے دن نو موٹر ڈے بنایا گیا اور مسلمان عید کی نماز کے لئے بھی نہ نکل سکے، امریکہ میں میر کئی عید کے دن کام پر جاتے ہیں وہ نظر نہیں آتا۔
Posted by عثمان on December 25, 2010 at 11:15 AM
ہاہا۔۔
آپ کس دنیا کے باشندے ہو میرے بھائی۔
Posted by Aniqa Naz on December 25, 2010 at 10:09 AM
لیجئیے یہاں تو یہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ غیر مسلموں کو مبارکباد بھی دی جائے یا نہیں۔ آپ نے اتنے بڑے مسائل چھیڑ دئیے۔ اور اب آپکو پتہ چل گیا کہ جس دن مغربی ممالک چھٹی دیں گے اس دن ہی ہم ایسا کچھ کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ انہیں ہم سے آگے رہنا چاہئیے۔
Posted by افتخار اجمل بھوپال on December 25, 2010 at 11:45 AM
عيسائيوں کے ملکوں ميں مسلمان عيد کی نماز کيلئے جازت مانگتے ہيں تو کہا جاتا ہے اتوار کے دن کر لو ۔ کئی ممالک ميں عورتوں کا سر ڈھانپنا ممنوع ہے
Posted by farigh on December 25, 2010 at 6:22 PM
اوپر کاشف نصیر کا تبصرہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ مسلمان جرمنی میں آزادانہ عید مناتے ہیں۔ اول تو ایسا کوئی نو موٹر ڈے منایا ہی نہیں گیا اور اگر منایا بھی جائے تو شاندار جرمن ٹرانسپورٹ سسٹم کی وجہ سے کہیں جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اس لئے بے کار کی گپیں مار کر اپنے آپ اور دوسروں کا گمراہ نہ کریں۔
Posted by farigh on December 25, 2010 at 6:28 PM
اجمل صاحب سے بھی گذارش ہے کہ یہ بھی لکھ دیجئے کہ کس مغربی ملک میں سر ڈھانکنا منع ہے؟ اور کس ملک میں عید اتوار کے دن کرنے کو کہا گیا ہے؟ صرف فرانس میں ایک قانون ابھی پاس ہوا ہے جس میں عورت کہ نقاب سے منع کیا گیا ہے۔ سر ڈھانکنے اور نقاب میں زمیں آسمان کا فرق ہے۔
عید کے اجتماع میں آپ سڑکیں بلاک کر دیں تو ظاہر ہے غیر مسلم اعتراض تو کریں گے ہی۔ لیکن مساجد کے اندر ھزاروں کا اجتماع ہوتا ہے نہ صرف عید پر بلکہ ھر جمعہ پر
Posted by Aniqa Naz on December 25, 2010 at 10:46 PM
بہت سارے اسلامی ممالک میں غیر مسلم خواتین کا بھی سر ڈھانپنا ضروری ہے۔ کینیڈا امریکہ آسٹریلیا میں اگر چھٹی مانگیں تو ملتی ہے مگر سالانہ چھٹی میں سے کٹتی ہے۔
Posted by جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین on December 26, 2010 at 4:01 AM
میری رائے میں ہمیں اپنے مسلمان ہونے کا ثبور دیتے ہوئے پاکستان میں بسنے والے دیگر غیر مسلموں کے جائز حقوق کا اتنا ہی خیال رکھنا چاہئیے جتنا ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کا خیال رکھنے پہ زور دیتا ہے۔ یہ اسلامی فریضہ بھی ہے اور انسانی تقاضہ بھی۔ اسمیں مغرب کی تقلید یا مخالفت کا کوئی پہلو مدنظر نہیں رکھا جانا چاہئیے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیاکرتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمارا اعلٰی اسلامی اخلاق اس بارے کیا کہتا ہے۔ اور میرے رائے میں کسی مسلمان ریاست میں بسنے والے غیر مسلموں کے جائز حقوق کا خیال رکھنا اس ریاست کے مسلمانوں کا فرض بنتا ہے۔
Posted by جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین on December 26, 2010 at 4:03 AM
نیز اللہ تعالٰی جن قوموں کو فنا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ ان قوموں کا اخلاق سب سے پہلے تباہ ہوتا ہے۔
Posted by گپو ڑی on December 26, 2010 at 5:16 AM
میرے دوست نے آپ نے یه جو لکها هے قابل احترام هے لیکن سوال یه اٹهتا هے که کیا هماری حکومت اکثریت کو ان کی ضروریات فراهم کر رهی هے جو وه بےچاری اقلیت کو دے گی. ان کی اپنی عیّاشیاں ختم هوں گی تو عوام انناس کی فکر کریں گے نه….. سو میرے بهایوں فکر نه فاقه عیش کر کاکا…..