یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاوں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاوں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے
یہاں ہر ایک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاوں میں
جہاں سچے رشتے یاروں کے
جہاں گھونگٹ زیور ناروں کے
جہاں جھرنے کومل سر والے
جہاں ساز بجے بن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاوں میں
7 Nov





Posted by Iftikhar Ajmal Bhopal on November 7, 2010 at 9:46 AM
از راہِ کرم ہميں ايسے اداس گاؤں ميں نہ لے جايئے ۔ ہم پہلے ہی شہروں ميں کيا کم اداس ہيں
جناب ۔ کوئی شکل ہو سکتی ہے کہ ميں اپنے اردو بلاگ کی معرفت آپ کے بلاگ پر اردو لکھوں گا ؟
http://www.theajmals.com
Posted by عمران on November 7, 2010 at 1:24 PM
جناب یہ دکھڑا ہی شہر کے بارے میں ہے، گاوں کب اداس ہوتا ہے؟آپ سے نظم ایک بار دوبارہ پڑھنے کی درخواست کروں گا۔
دوسری بات سمجھ نہیں آئی۔
Posted by kainat on November 7, 2010 at 1:31 PM
بہت اچھا لکھا ہے۔ کیپ گڈ ورک
Posted by جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین on November 7, 2010 at 8:53 PM
منافقت اور بے ایمانی کا سسلسلہ اب پاکستان کے گاؤں ، گوٹھ اور دیہات میں پہنچنا شروع ہو گیا۔ کچھ دن جاتے ہیں گاؤں اور دیہاتوں کی معصومیت، سادہ دلی، سچائی وغہرہ مہمانوں کی طرح رخصت ہوجائے گی۔
Posted by عمران on November 7, 2010 at 10:00 PM
درست فرمایا، ترقی آئے گی اور سادگی جائے گی۔
Posted by hijabeshab on November 8, 2010 at 1:09 AM
اچھی نظم ہے ۔۔
Posted by عمران on November 8, 2010 at 2:49 AM
جی ہاں۔ ابن انشاء کے کلام سے انتخاب ہے۔ ابن انشاء کی بات ہی کچھ الگ ہے۔ بلاگ پر خوش آمدید۔
Posted by Iftikhar Ajmal Bhopal on November 8, 2010 at 11:53 AM
جناب ۔ دوسری بات يہ ہے کہ آپ تبصرہ يا ڈِسکشَن کی آپشَنز ميں جايئے اور وہاں پر جو آپ نے لاگ اِن والا او کے کيا ہوا ہے اس کی بجائے اَينی باڈی کين کومنٹ کر ديجئے
Posted by یاسر خوامخواہ جاپانی on November 9, 2010 at 6:31 AM
اداس گاوں ہی سہی ہمیں بھی لے چلیں۔
پیاری شاعری ھے۔
Posted by بنت حوا on November 10, 2010 at 12:49 AM
دور کے ڈھو ل سھانے ھی ھوتے ھیں ویسے ادبی ذوق پسند آیا-
Posted by عمران on November 10, 2010 at 2:22 AM
شکریہ
Posted by تانیہ رحمان on November 21, 2010 at 5:42 PM
بہت ہی خوب عکاسی کی گئی ہے ،،، انشا جی کی شاعری میں یہی خوبی ہے ۔۔۔ کہ پڑھنے کے دوران انسان خود وہاں اپنے آپ کو محسوس کرتا ہے ۔۔۔۔
Posted by daaljan on December 5, 2010 at 10:49 AM
اسلام وعلیکم بھای صاحب کیا حال ہے میرا پہلے والا ویب لاگ ہک ہو گیا ہے اور اب نیا ویب لاگ یہ ہے آہند اس کو دیکھ لینا اور اپنے دوستوں کو ارسال کرنا
http://daaljan.wordpress.com/ دالبندین آنلاین
Posted by Ali Hasaan on July 9, 2011 at 8:04 PM
بہت اعلیٰ انتخاب ہے، انشا جی کی کیا ہی بات ہے